Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
269 - 531
عرض کی:”احسان کیا ہے؟“ارشادفرمایا:”اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عبادت ایسےکروگویاتم اُسے دیکھ رہے ہو، اگر یہ  نہ کرسکوتو خیال کروکہ وہ توتمہیں دیکھ رہا ہے۔“عرض کی:جب میں ایساکروں گا تومحسن شمار کیا جاؤں گا؟ارشاد فرمایا:”ہاں۔“پھرعرض کی:یارسولَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!قیامت کب آئےگی؟ارشادفرمایا:یہ عُلومِ خمسہ میں سےہے،اس کاحقیقی علماللہعَزَّ  وَجَلَّکوہے،(1) پھریہ آیتِ مُبارَکہ تلاوت فرمائی:
اِنَّ اللہَ عِنۡدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ ۚ وَ یُنَزِّلُ الْغَیۡثَ ۚ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ ؕ وَمَا تَدْرِیۡ نَفْسٌ مَّاذَا تَکْسِبُ غَدًا ؕ وَمَا تَدْرِیۡ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوۡتُ ؕ اِنَّ اللہَ عَلِیۡمٌ خَبِیۡرٌ ﴿٪۳۴﴾ (پ۲۱،لقمٰن:۳۴)
ترجمۂ کنزالایمان:بےشک اللہکےپاس ہےقیامت کا علم اوراُتارتاہےمینہ اورجانتاہےجوکچھ ماؤں کےپیٹ میں ہے اورکوئی جان نہیں جانتی کہ کل کیاکمائےگی اورکوئی جان نہیں جانتی کہ کس زمین میں مرےگی بےشک اللہجاننے والابتانےوالاہے۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مُفَسِّرِشہیر،حکیم الامت مفتی احمدیارخان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح، جلد 1، صفحہ27پرفرماتے ہیں: پانچ چیزیں رب تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا قیامت کب ہوگی، بارش کب آویگی، ماں کے پیٹ میں کیا ہے اور میں کل کیا کروں گا اور میں کہاں مروں گا۔ اس میں سورۂ لقمان کی آخری آیت کی طرف اشارہ ہے۔اس آیت وحدیث کامطلب یہ نہیں کہ اللہ نے کسی کویہ علم دیئے بھی نہیں، کاتِبِ تقدیر فرشتہ اور ملَکُ الموت کو یہ علوم بخشے گئے ہمارے حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے بدر کی جنگ سے پہلے زمین پر خطوط کھینچ کر بتایا کہ کل یہاں فلاں فلاں کا فر مارا جاویگا، بلکہ مطلب یہ ہے  کہ یہ علوم خمسہ قیاس، تخمینہ، حساب سے معلوم نہیں ہوسکتے صرف وحِیِ الٰہی سے ان کا پتہ لگ سکتا ہے۔
2…صدرالافاضل حضرت علامہ مولاناسیِّدمحمدنعیم الدین مرادآبادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی’’تفسیرخزائن العرفان‘‘ میں اس آیتِ مقدسہ کےتحت فرماتےہیں:جس ک	و چاہے اپنے اولیا اوراپنے محبوبوں میں سے انہیں خبردار کرے ۔ اس آیت میں جن پانچ چیزوں کے علم کی خصوصیّت اللہ تبارک و تعالیٰ کے ساتھ بیان فرمائی گئی انہیں کی نسبت سورۂ جن میں ارشاد ہوا 
’’عٰلِمُ الْغَیۡبِ فَلَا یُظْہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا ﴿ۙ۲۶﴾اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنۡ رَّسُوۡلٍ‘‘(پ۲۹،الجن:۲۶،۲۷،ترجمۂ کنزالایمان:غیب کاجاننےوالاتو اپنےغیب پرکسی کومسلط نہیں کرتاسوائےاپنےپسندیدہ رسولوں کے۔)غرض یہ کہ بغیر اللہ تعالیٰ کے بتائے ان چیزوں کا علم کسی کو نہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے محبوبوں میں سے جسے چاہے بتائے اوراپنے پسندیدہ رسولوں کو بتانے کی خبر خود اس نے سورۂ جن میں دی ہے خلاصہ یہ کہ عِلمِ غیب اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے اورانبیاء و اولیاء کو غیب کا علم اللہ تعالیٰ کی تعلیم سے بطریْقِ معجِزہ و کرامت عطا ہوتا ہے ، یہ اس اِخْتِصاص کے مُنافی نہیں اورکثیر آیتیں اورحدیثیں اس پر دلالت کرتی ہیں ، بارش کا وقت اور حمل میں کیا ہے اور کل کو کیا کرے اور کہاں مَرے گا ان اُمور کی خبریں بکثرت اولیاء و انبیاء نے دی ہیں اور قرآن …☜