Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
267 - 531
رسول بیان کررہے تھے۔ان میں ایک نوجوان بھی تھا،جب وہ کچھ بیان کرتا تو تمام لوگ خاموش ہوجاتے۔ میں نےاس نوجوان سےکہا:”اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تم  پررحم فرمائے،مجھے کوئی حدیث سناؤ،خدا کی قسم!میں تم سے محبت کرتا ہوں۔“اس نے کہا:”میں نےرسولُاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوارشادفرماتےسنا:”اللہعَزَّ  وَجَلَّ کی عظمت کی خاطر آپس میں محبت رکھنےوالےاُس دن اللہ عَزَّ  وَجَلَّکےعرش کےسائے میں ہوں گےجس دن اس کےعرش سوا کوئی سایہ نہ ہوگا۔“میں نےکہا:اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تم پررحم فرمائے!تم کون ہو؟“اس نے کہا: میں مُعاذ بن جَبل ہوں۔ (1)
دل کی بات جان لی:
(6947)… حضرتِ سیِّدُناعبداللہبن سَعدیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتےہیں:میں قبیلےوالوں کےساتھ ایک وفد کی صورت میں بارگاہِ رسالت میں حاضری کےلئے نکلا۔(جب وہاں پہنچے تو چونکہ)میں سب سے چھوٹا تھا لہٰذا قبیلے والےمجھےسواریوں کے پاس چھوڑ کر خود دربارِ رسالت میں حاضر ہوگئےاور جب فارغ ہوئے تو رسولُاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاستفسارفرمایا:”تم میں سےکوئی باقی ہے؟“انہوں نےکہا:جی ہاں! ایک بچہ ہے جو سواریوں کی حفاظت پر مامورہے۔ارشادفرمایا:”اسے بلاؤ کیونکہ اس کی حاجت تم سب سےبہتر ہے؟“قبیلےوالے مجھےلےآئے،میں خدمَتِ اقدس میں حاضرہواتوآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے استفسار فرمایا:تمہاری کیا حاجت ہے؟میں نے عرض کی:مجھےبتائیے:کیاہجرت کا سلسلہ ختم ہوچکا؟ارشاد فرمایا:جب تک کافروں سےجہاد ہوتا رہےگا ہجرت باقی رہےگی۔
تین طرح کے پڑوسی:
(6948)…حضرتِ سیِّدُناجابربنعبداللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسےمروی ہےکہ حضورنَبیّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:پڑوسی تین طرح کےہیں:(۱)…وہ پڑوسی جس کاصرف ایک حق ہے،یہ سب سےکم حق والاپڑوسی ہے۔(۲)…وہ پڑوسی جس کے دو حق ہیں اور (۳)…وہ پڑوسی جس کے تین حق ہیں اور یہ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مسند امام احمد، مسند الانصار،اخبار عبادة بن الصامت،۸/ ۴۲۱،حدیث:۲۲۸۴۷
	مسندشامیین،ابن جابر عن عطاء الخراسانی،۱/ ۳۶۲،حدیث:۶۲۵