عمرے کا تَلْبِیہ کہتاپھر بیتُ اللہ کا طواف کرتااور بعد میں احرام کی قید سے آزاد ہوجاتا ہے،سلے ہوئے کپڑے پہنتا،خوشبو لگاتااوراگر بیوی ساتھ ہو تو ہمبستری بھی کرتا ہے، جب تَرْوِیہ(آٹھ ذوالحجہ) کا دن آتا ہے تو حج کے لئےتلبیہ پڑھتا ہوا مِنیٰ کی طرف روانہ ہوجاتا ہے، اس وقت تھکاوٹ ہوتی ہےنہ بال بکھرے ہوتےہیں، تلبیہ بھی فقط ایک دن پڑھتا ہے حالانکہ حج عمرے سے افضل ہے اور اگر ہم لوگوں کو اسی طرح چھوڑدیں تو مکہ والے دورانِ حج لوگوں کی طرف دوڑیں گے کیونکہ اہل مکہ کے پاس مال مویشی ہیں نہ اناج، ان کا ذریعہ معاش تو یہاں آنے والوں سے ہے۔
داڑھی کا خلال سنت ہے:
(6944)…حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مُسیّب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں:میں نےدیکھاکہ حضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےوضو کے دوران داڑھی کاخلال کیااورفرمایا:رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اسی طرح کیا کرتے تھے۔
(6945)…حضرتِ سیِّدَتُناخولہ بنْتِ حکیمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَابیان کرتی ہیں:میں نےبارگاہِ رسالت میں عرض کی:یارسولَاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیامردکی طرح عورت کوبھی اِحتِلام ہوتاہے؟توآپ نے ارشاد فرمایا:”(ہاں)جب ایسا ہو تو غسل کرلو(1)۔“(2)
عرش کے سائے میں:
(6946)…حضرتِ سیِّدُناعطاء خُراسانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناابوادریس خَولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں:میں حِمْص کی ایک مسجد میں داخل ہوااور ایک حلقے میں بیٹھ گیا جہاں لوگ حدیْثِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…اِحْتِلام یعنی سوتےسےاٹھااوربدن یاکپڑےپرتری پائی اوراس تری کےمَنی یا مَذی(وہ سفیدرقیق’’پتلا‘‘پانی جوملاعبت ’’دل لگی‘‘کے وقت نکلتاہے) ہونےکایقین یااحتمال ہوتوغُسل واجب ہےاگرچہ خواب یادنہ ہواوراگریقین ہےکہ یہ نہ مَنی ہےنہ مَذی بلکہ پسینہ یاپیشاب یاوَدی(وہ سفیدپانی جوپیشاب کےبعدنکلتاہے) یاکچھ اورہےتواگرچہ اِحْتِلام یادہواورلذّتِ اِنزال خیال میں ہو غُسل واجب نہیں اوراگرمَنی نہ ہونے پریقین کرتاہےاورمَذی کاشک ہےتواگر خواب میں اِحْتِلام ہونایادنہیں توغُسل نہیں ورنہ ہے۔اگراِحْتِلام یادہےمگراس کاکوئی اثرکپڑےوغیرہ پرنہیں غُسل واجب نہیں۔(بہارشریعت،حصہ۲، ۱/ ۳۲۱)
2…ترمذی،کتاب الطھارة،باب ماجاء فی المراة تری فی المنام،۱/ ۱۷۱،حدیث:۱۲۲