Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
265 - 531
	اگر تم زمین بھر سونے کے مقروض بھی ہوتواللہ عَزَّ  وَجَلَّ تمہیں اس سے بھی نجات عطافرمادےگا۔(1)
70ہزار فرشتے دعا کرتے ہیں:
(6941)…حضرتِ سیِّدُناابورَزینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتےہیں کہ حضورنَبیّ رحمت،شفیْعِ امتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےمجھ سےارشادفرمایا:کیاتم جانتےہوکہ جب کوئی شخص اپنے گھرسےرضائےالٰہی کی خاطرمسلمان بھائی سےملاقات کےلئےنکلتاہےتو70ہزارفرشتےاس کےلئےدعاکرتےہیں:”الٰہی!جس طرح اس نے تیرے  لئے رشتہ جوڑا ہے توبھی اِس سے اپنا رشتہ جوڑ۔“تواگرتم یہ کرسکو تو ضرورکرو۔ (2)
	ایک روایت میں ہے:اےابورَزین!رضائے الٰہی کی خاطراپنےمسلمان بھائی سے ملاقات کرو کیونکہ جب بندہاللہ عَزَّ  وَجَلَّکی رضا کےلئےاپنےمسلمان بھائی سےملاقات کرتاہےتواللہ عَزَّ  وَجَلَّ70ہزارفرشتے مقررفرمادیتا ہے۔اگر بندہ صبح کےوقت ملاقات کو جاتا ہے تو فرشتے شام تک اس کے لئے دعا کرتے رہتے ہیں اور اگرشام کوجاتاہےتوصبح تک دعا کرتے رہتے ہیں۔ پس اگر تم اس کی قدرت رکھتے ہو تو ضرور ایساکرو۔
حج وعمرہ ایک ساتھ کرنا:
(43-6942)…حضرتِ سیِّدُنا سعیدبن مُسیّبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عُمَر فاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئےانہیں حج وعمرہ اکٹھے کرنے سےمنع کرتےہوئے(3)فرمایا:”عمرہ الگ کروبلکہ حج کے مہینوں کے علاوہ کرو، یہ عمل تمہارے حج اورعمرہ دونوں کو خوب کامل بنادےگا۔“پھرفرمایا:”میں اس سے منع کررہا ہوں حالانکہ میں نے خودرسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ حج وعمرہ اکٹھےاداکئےہیں۔منع کرنے کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کےکونوں سےآنے والا تھکاوٹ اور بکھرے بالوں کے ساتھ حج کے مہینوں میں عمرہ کرتا ہے، اسی تھکاوٹ اور بکھرے بالوں میں 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مسندشامیین،عطاء عن معاذ بن جبل،۳/ ۳۱۹،حدیث:۲۳۹۸
2…شعب الایمان،کتاب فی مقاربة و موادة اهل الدين،فصل فی المصافحة...الخ،۶/ ۴۹۲،حدیث:۹۰۲۴
3…علامہ بدرُالدین عَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتےہیں:امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعُمَر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا یہ فرمان حج افراد کی ترغیب کے لئے تھا جو کہ کراہَتِ تنزیہی پر محمول ہے بعد میں بلا کراہَت حج تَمَتُّع کے جواز پر اجماع منعقد ہوگیا۔
(عمدةالقاری،۷/ ۹۵ ،تحت الحدیث:۱۵۵۹)