استادکےدروازے پر دستک نہ دیتے:
(6163)…حضرتِ سیِّدُناامام اعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں:طلحہ بن مصرفرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ دروازے پر آکر بیٹھ جایا کرتے تھے، خادمہ کاآنا جانا لگا رہتا مگر وہ اس سے کچھ نہ کہتے یہاں تک کہ میں خود باہر آ جاتا تو وہ قرآنِ کریم پڑھنے بیٹھ جاتے۔ تمہارااس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جو خطا کرتا ہے نہ اعرابی غلطی کرتا ہے؟ اگر میں دیوار سے ٹیک لگاتا تو وہ سلام کرکےچلے جاتے۔
حضرتِ سیِّدُنا ابوخالد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْخَالِق بیان کرتے ہیں کہ جب حضرتِ سیِّدُنا طلحہ بن مُصرِّف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ قرأت میں مشہور ہوگئے تو انہوں نے شہرت ختم کرنے کے لئے حضرتِ سیِّدُناامام اعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی شاگردی اختیار کرلی۔
رات بھر تلاوت:
(4616)…حضرتِ سیِّدُناامام اَعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں:ہم نے رمضانُ المبارک کی 27ویں شب مسجد اِیّامیِّین میں طلحہ بن مصرف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اور زُبید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس گزاری، زُبید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تو رات کو قرآنِ مجید مکمل کرکے اپنے گھر چلے گئے جبکہ طلحہ بن مصرف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مسجد میں ٹھہرے رہے حتّٰی کہ فجر کے وقت قرآنِ مجید ختم کیا۔
(6165)…حضرتِ سیِّدُنا لیث رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں:جب حضرتِ سیِّدُنا طلحہ بن مُصرِّف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مرض الموت میں مبتلا تھے تو میں نے انہیں بتایا کہ حضرتِ سیِّدُنا امام طاؤس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مریض کے کراہنے کو ناپسند جانتے تھے۔ اس کے بعد حضرتِ سیِّدُنا طلحہ بن مصرف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو کراہتے ہوئے نہ سنا گیا حتّٰی کہ آپ کا وصال ہوگیا۔
اختلاف نہیں بلکہ وُسعت:
(6166)…حضرتِ سیِّدُنا موسٰی جُہَنی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا طلحہ بن مصرف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکےسامنےجب اہْلِ علم کی مختلف آرا کو ”اختلافِ رائے“کانام دیاجاتاتوآپ فرماتے: اسے”اختلاف“نہ کہا کرو