میں سے کسی کا تعلق حروری(یعنی خارجی) سے نہ تھا اور (۳)…کوئی تقدیر کو نہ جھٹلاتا تھا۔
پانچ باتوں کا ظہور:
(6925)…حضرتِ سیِّدُنا منصور بن غریب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں:حضرتِ سیِّدُنا عطاء خراسانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں کہ پانچ کاموں کی وجہ سے پانچ باتیں ظاہر ہوں گی:(۱)…جب سود عام ہوگا تو زمین دھنسائی جائے گی اور زلزلوں کا ظہور ہوگا (۲)…حکمران ظلم کریں گے تو بارش نہ برسے گی (۳)…زنا عام ہوجائے گا تو مرنےوالوں کی تعداد بڑھ جائے گی (۴)…زکوٰۃ ادا نہ کرنے کی وجہ سے مویشی مرنے لگیں گے اور (۵)…اہْلِ ذمہ پر ظلم کیا جائے گاتو ان کی حکومت قائم ہوجائے گی۔
(6926)…حضرتِ سیِّدُنا نجم عطار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عطا خراسانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرمان:
وَ اِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْہُمُ ابْتِغَآءَ رَحْمَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکَ تَرْجُوۡہَا (پ۱۵،بنیٓ اسرآئیل:۲۸)
ترجمۂ کنز الایمان: اور اگر تو ان سے منہ پھیرے اپنے رب کی رحمت کے انتظار میں جس کی تجھے امید ہے۔
کےمتعلق فرماتے ہیں کہ یہ والدین کے متعلق نازل نہیں ہوئی بلکہ اس وقت نازل ہوئی جب قبیلہ مُزَیْنہ کےکچھ لوگ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے تاکہ جہاد کے لئے سواری طلب کریں توآپصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نےارشادفرمایا:”میرے پاس کوئی چیز نہیں جس پر تمہیں سوار کروں۔“ یہ سن کر وہ غمزدہ ہوکر یوں واپس گئے کہ ان کی آنکھوں سے آنسوبہہ رہےتھے۔مزیدفرماتے ہیں:یہاں”رحمت“سےمراد مالِ فئے(1) ہے۔
اوراس فرمانِ باری تعالیٰ:
وَ اِذِ اعْتَزَلْتُمُوۡہُمْ وَمَا یَعْبُدُوۡنَ اِلَّا اللہَ (پ۱۵،الکھف:۱۶)
ترجمۂ کنز الایمان:اورجب تم ان سے اور جوکچھ وہ اللہکے سواپوجتےہیں سب سےالگ ہوجاؤ۔
کی تفسیرمیں فرماتےہیں:ایک قوم اللہعَزَّ وَجَلَّکی عبادت کےساتھ ساتھ دیگرمعبودوں کی بھی عبادت کرتی تھی ان میں سےچندنوجوان باطل معبودوں سےعلیحدہ ہوکرخالصتاًمعبودِحقیقی کی عبادت کرنےلگے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…لڑائی کے بعد جو اون(کفار) سے لیا جائے جیسے خراج اور جزیہ اس کو فئے کہتے ہیں۔(بہارشریعت، حصہ۹، ۲/ ۴۳۴)