Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
257 - 531
(6921)…حضرتِ سیِّدُنا عطاء خراسانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے فرمان:
وَلَا یُبْدِیۡنَ زِیۡنَتَہُنَّ اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنْہَا (پ۱۸،النور:۳۱)	
ترجمۂ کنز الایمان:اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں مگر جتنا خودہی ظاہر ہے۔
	کی تفسیر میں  فرماتے ہیں:یعنی آنکھ اور چہرہ۔(1)
شیطان کا سرمہ:
(6922)…حضرتِ سیِّدُنا عثمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد حضرتِ سیِّدُنا عطاء خراسانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کو فرماتے سنا:شیطان کاایک سرمہ ہے جسے وہ لوگوں کےلگاتاہےتواس سے بندے کو ذکر سے غافل کردیتا ہے۔
(6923)…حضرتِ سیِّدُنا عطاء خراسانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کے بیٹے بیان کرتے ہیں کہ میرے والد فرماتے ہیں:عالم کو چاہئے کہ اہلِ مجلس پر اپنی آواز کارعب نہ جھاڑےکیونکہ علم کی مجالس ایک دوسرے کے لئےرغبت وسکون  کاذریعہ ہیں۔
صحابَۂ کرام تین باتوں سے بچتے تھے:
(6924)…حضرتِ سیِّدُنا امام اوزاعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عطاء خراسانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں:صحابَۂ کرام تین باتوں سے بچا کرتے تھے:(۱)…قسامت(2)پر قسم نہ اٹھاتے (۲)…ان
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…صدرالافاضل حضرت علامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: اَظہر(زیادہ ظاہربات) یہ ہے کہ یہ حکم نماز کا ہے نہ نظر کا کیونکہ حرہ(آزاد عورت) کا تمام بدن عورت(چھپانے کی چیز) ہے شوہر اور محرم کے سوا اور کسی کے لیے اس کے کسی حصہ کا دیکھنا بےضرورت جائز نہیں اور معالجہ وغیرہ کی ضرورت سے قدرضرورت جائز ہے۔
2…مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح، جلد5، صفحہ258 پر قسامت کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:”قسامت کے لغوی معنے ہیں قسم کھانا یا قسم لینا مگر احناف کے نزدیک قسامت کے معنے شرعی یہ ہیں کہ کسی محلّہ میں کوئی مقتول پایا گیا قاتل کا پتہ نہیں چلتا تو مقتول کے ورثاء اس محلّہ کے پچاس آدمیوں سے قسم لیں ہرایک یہ قسم کھائے کہ نہ ہم نے اسے قتل کیا ہے نہ ہم کو قاتل کا پتہ ہے، ان پچاس آدمیوں کے چننے میں مقتول کے ورثاء کو اختیار ہوگا کہ محلّہ میں سے جن سے چاہیں قسم لیں مگر آزاد عاقل بالغ مردوں سے قسم لیں، خیال رہے کہ قسامت کے بعد قصاص کسی پر واجب نہ ہوگا، بلکہ دیت واجب ہوگی خواہ مقتول کے وارث قتل عمد کا دعویٰ کریں یا قتل خطاء کا، نیز قسم صرف ملزمین پر ہوگی مقتول کے ورثاء پر نہ ہوگی۔