فرماتے ہیں:بےشک جہنم کے سات دروازے ہیں، ان میں جو سب سے زیادہ ہولناک اور گرم ہوگا اس کی بو وہ زناکار پائے گا جو علم کے باوجود بدکاری میں مبتلا ہو۔
(6917)…حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن ابوعَیلہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ ہم فجر کی نماز کے بعد حضرتِ سیِّدُنا عطاء خراسانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کے پاس حاضر ہوجاتے پھر وہ وعظ ونصیحت فرماتے۔ ایک روز آپ موجود نہ تھے توکسی مؤذن نےوعظ شروع کردیا۔حضرتِ سیِّدُنا رَجاء بن حیوہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اجنبی آواز سنی تو فرمایا:”یہ کون ہے؟“اس نے اپنے بارے میں بتایا تو آپ نے فرمایا:”خاموش ہوجاؤ، بھلائی کی بات ہم نیک لوگوں سے ہی سننا پسند کرتے ہیں۔
برکت اُٹھ چکی ہے:
(6918)…حضرتِ سیِّدُنا عثمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن بیان کرتے ہیں کہ میرے والد حضرتِ سیِّدُنا عطاء خراسانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں:جب سے میں نے دیکھا کہ پانی کے چشمے چھوٹے چھوٹے ہوگئے ہیں تو میں نے جان لیا کہ برکت اُٹھ چکی ہے۔
(6919)…حضرتِ سیِّدُنا رجاء بن ابوسلمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عطاء خراسانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی اس فرمانِ باری تعالیٰ:
حَسْبُکَ اللہُ وَمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ ﴿٪۶۴﴾ (پ۱۰،الانفال:۶۴)
ترجمۂ کنز الایمان:اللہ تمہیں کافی ہے اور یہ جتنے مسلمان تمہارے پیرو ہوئے۔
کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور آپ کی اتباع کرنے والے تمام مؤمنین کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کافی ہے۔
بہترین عمل:
(6920)…حضرتِ سیِّدُنا عثمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن بیان کرتے ہیں کہ میرے والد حضرتِ سیِّدُنا عطاء خراسانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں:میرا بہترین عمل باطنی ہے(یعنی روزہ) جو میرے علم کو بڑھاتا ہے۔