اِبْنِابونَجِیحکی روایت میں ہے کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے یوں دعا کی:”یَا رَبِّ اجْعَلْ خَطِیْئَتِیْ فِی کَفِّی یعنی اے اللہعَزَّ وَجَلَّ!میری خطاؤں کو میری ہتھیلی پر ظاہر فرمادے۔“اس کے بعد جب بھی آپ کھانے پینے کے لئے اپنا ہاتھ بڑھاتے تو ہتھیلی دیکھ کر رونے لگتے اور جب پانی سے بھرا پیالہ پیش کیا جاتا، پینے کے لئے اسے اٹھاتے تو اس میں بھی اپنی لغزش نظر آجاتی پس پیالہ رکھ دیتے اور آپ کے آنسو جاری ہوجاتے۔
(6902)…حضرتِ سیِّدُنا رَجاء بن ابوسلَمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عطاء خُراسانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں:بزرگوں کے مقابلے میں جوانوں سے حاجات طلب کرنازیادہ آسان ہے۔کیا تم دیکھتےنہیں حضرتِ سیِّدُنایوسفعَلَیْہِ السَّلَامنے(اپنےبھائیوں سے)یہ ارشادفرمایا:
لَا تَثْرِیۡبَ عَلَیۡکُمُ الْیَوْمَ ؕ یَغْفِرُ اللہُ لَکُمْ (پ۱۳،یوسف:۹۲)
ترجمۂ کنز الایمان:آج تم پرکچھ ملامت نہیںاللہتمہیں معاف کرے۔
جبکہ حضرتِ سیِّدُنا یعقوب عَلَیْہِ السَّلَامنے(ان سے)یہ ارشادفرمایا:
سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَکُمْ رَبّ (پ۱۳،یوسف:۹۸) ترجمۂ کنز الایمان:جلد میں تمہاری بخشش اپنے رب سے چاہوں گا۔
کے بارے میں نہیں جانتے۔
لمحہ بھرکی ذلت سےزیادہ آسان:
(6903)…حضرتِ سیِّدُنا عطاء خراسانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کے بیٹے حضرتِ سیِّدُنا عثمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن اپنے والد کےحوالےسےبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناموسٰیکَلِیْمُاللہعَلَیْہِ السَّلَامیوں کہاکرتےتھے:”اےاللہعَزَّ وَجَلَّ! 100مرتبہ موت کا مزہ چکھنا میرے لئے لمحہ بھر کی ذلت سے زیادہ آسان ہے۔“اور فرماتے تھے:”نفس موت سے خوش ہوتا ہے، جب کسی نبی کی روح قبض کی جاتی ہے تو ان کا نفس موت سے خوش ہوتا ہے۔“
خوش قسمت مکڑیاں:
(6904)…حضرتِ سیِّدُناعطاء خُراسانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کے بیٹے حضرتِ سیِّدُنا عثمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن اپنے والد کےحوالےسےبیان کرتےہیں کہ مکڑی نےدومرتبہ بہت مبارک جال بُنا،ایک اُس وقت جب طالوت حضرت