Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
252 - 531
قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی جب کسی کو نہ پاتے کہ حدیث بیان کریں تو فُقَرا وغربا کے پاس تشریف لےجاتے اور انہیں حدیث بیان کرتے۔
(6898)…حضرتِ سیِّدُنا ابوہَزان یزید بن سَمُرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عطاء خراسانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں:”جس مجلس میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی حلال وحرام کردہ اشیاء کے متعلق گفتگو کی جائے وہ ذکر کی محفل ہے۔“
(6899)…حضرتِ سیِّدُنا عطاء خُراسانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا داؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کی:مولا! بنی اسرائیل پر جب مصیبت وشدت طاری ہوئی تو کیا وجہ تھی کہ وہ یوں کہتے تھے”اے ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کے رب۔“اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے وحی فرمائی:”ابراہیم نے کسی کو ترجیح نہ دی ہمیشہ میری طرف رجوع کیا، اسحاق نے اپنے دل میں میرے لئے اچھی بات سوچی اور یعقوب کو جب میں نے آزمائش میں مبتلا کیا تو اس نے میرے متعلق برا گمان نہ کیا حتّٰی کہ میں نے اس کی تکلیف دور کردی۔
(6900)…حضرتِ سیِّدُنا ابن جابر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَافِر  بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عطاء خراسانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے فرمایا:حضرتِ سیِّدُنا داؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنی لغزشوں کو ہتھیلی پر محفوظ کرلیا کرتے تھے تاکہ انہیں نہ بھولیں پھر جب اپنی ہتھیلی کو دیکھتے تو اس پر اپنا ہاتھ مارتے۔
(6901)…حضرتِ سیِّدُنا عطاء خراسانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا داؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو آواز آئی:”اے داؤد سر اُٹھاؤ۔“آپ اس کے لئے باہر تشریف لائے اور زمین پر لیٹ گئے۔ جبریل عَلَیْہِ السَّلَام حاضر ہوئے اور آپ کو زمین سے اس طرح اٹھایا جس طرح درخت سے گوند نکالی جاتی ہے۔
	حضرتِ سیِّدُنا ولیدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْدحضرتِ سیِّدُنا قَیس بن زُبیررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے سجدے میں جاکر اپنی پیشانی زمین پر کھ دی تھی۔
	حضرتِ سیِّدُنا ابنِ لَہِیعہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام سجدے میں یہ تسبیح پڑھ رہے تھے:”سُبْحَانَکَ ھٰذَا شَرَابِیْ دُمُوْعِیْ وَھٰذَا طَعَامِیْ رَمَادٌبَیْنَ یَدَیَّ یعنی تیری ذات پاک ہے، میرا مشروب میرے آنسو ہیں اور میرا کھانا سامنے موجود خاک ہے۔“