یہ دنیا تمام لوگوں کا گھر ہے جو بھی سفر کے لئے نکلتا ہے وہ سامانِ سفر ساتھ لےکر پوری تیاری کے ساتھ نکلتا ہے، گرمی سے بچنے کے لئے سایہ حاصل کرتا ہے، پیاس بجھانے کے لئے ٹھنڈا پانی اور سردی سے بچنے کے لئے لحاف ساتھ رکھتا ہے پس جو اس تیاری کے ساتھ سفر پر نکلے گا خوشحال رہے گا اور جو بغیر تیاری کے سفر کرےگا وہ ندامت اٹھائے گا، دن میں سایہ پاسکے گا نہ پیاس کے وقت پانی جس سے پیاس بجھاسکے اور سردی کے وقت لحاف بھی پاس نہ ہوگا اس وقت اس سے زیادہ نادم کوئی نہ ہوگا۔ یقیناً دنیا کا یہ سفر ایک دن ختم ہوجائےگا کوئی ہمیشہ اس میں نہیں رہےگا۔ پس عقلمند وہ لوگ ہیں جو ناختم ہونے والے سفر(آخرت) کی تیاری میں مصروف ہیں، دنیا میں اس طرح رہتے ہیں کہ پیاس بجھانے کے لئے پانی ساتھ رکھتے۔
پس جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے عرش کے سائے تلے جگہ عطا فرمائے وہ کبھی بےسایہ نہ ہوگا اور جسے اس دن سایہ نصیب نہ ہو وہ کبھی سایہ نہ پاسکےگا۔ جو (آخرت) کی سیرابی میں مصروف رہے وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا کیونکہ جو اس دن پیاسا ہوگا وہ کبھی سیراب نہ ہوگا۔ جو (اُخروی) پردہ پوشی کی تیاری میں مصروف رہے وہ کبھی برہنہ نہ ہوگا اور جو اس دن برہنہ ہو اس کی پردہ پوشی کبھی نہ ہوگی۔ کوئی شخص دو چیزوں سے چھٹکارا نہیں پاسکتا:(۱)…موت کی سختی (۲)…قیامت میں ربّ قَہّار کی بارگاہ میں حاضری ۔ مخلوق کی نگہبانی کے متعلق وہ فیصلہ فرماچکا جو اس نے چاہا، اس کا کوئی شریک نہیں۔
اُمَّتِ محمدیہ کی فضیلت:
(6896)…حضرتِ سیِّدُنا عطاء خُراسانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عیسٰی رُوْحُاللہعَلَیْہِ السَّلَام نے اس اُمت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:”ان کی عقلیں کم ہوں گی اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پاس ان کے لئے کیاہی اچھا ثواب ہے۔“آپ کے حواریوں نے اس پر تعجب کرتے ہوئے عرض کی:”اے رُوْحُاللہعَلَیْہِ السَّلَام! یہ کس سبب سے ہوگا؟“فرمایا:”ان کی زبانوں پر وہ کلمہ جاری ہوگیا جو ان سے پہلی اُمتوں پر دشوار تھا یعنی لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ۔“
حدیث بیان کرنے کا شوق:
(6897)…حضرتِ سیِّدُناسعیدبن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز بیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعطاء خراسانی