فرمادے اگرچہ کتناہی دولت مند وعزت دار ہو، اگرچہ فخر سے کہتا ہو کہ میں فلاں بن فلاں ہوں۔ جسے رب تعالیٰ دوزخ سے آزاد فرمادے وہی آزاد ہے اور جسے جہنم سے آزادی نہیں وہ سخت ہلاکت میں ہے۔ پس دارِعمل ودارِفانی(دنیا) میں دارِثواب وہمیشہ رہنےوالے گھر(آخرت) کے لئے کوشش کرو۔ دنیا کو دنیا اس لئے کہتے ہیں کہ اس میں تھوڑا عمل کیا جاتا ہے اور آخرت کو آخرت اس لئے کہتے ہیں کہ اس میں ہرچیز مؤخر ہے نیز یہ ثواب کا گھر ہے اس میں عمل نہیں۔ جب بھی تم سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو یوں دعا کرو:”اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِی یعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّمجھے بخش دے۔“بےشک یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حکم کو بَجالانا ہے اور گناہ سرزد ہوجانے پر یہ پڑھ لیاکرو:”لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ اَللہُ اَکْبَرُ کَبِیْرًا وَّالْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَسُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہٖ وَلَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ وَاَسْتَغْفِرُ اللہَ وَاَتُوْبُ اِلَیْہ یعنی اللہعَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی معبود نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اللہعَزَّ وَجَلَّ سب سے بڑا ہے، تمام تعریفیں رب العالمین کے لئے، وہ پاک ہے، نیکی کی قوت اور گناہ سے بچنے کی طاقت اللہعَزَّ وَجَلَّ ہی کی توفیق سے ہے، میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور اسی کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں۔“جب نامَۂ اعمال کھولا جائے اور اس میں یہ کلمات ہوں گے تو ہربندہ اپنی خطاؤں کی طرف متوجہ ہوگااوران کلمات کے سبب مغفرت کی امید رکھے گا اور اس طرح کی نیکیاں بندے کی برائیوں کو مٹادیتی ہیں کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشادفرماتا ہے:
اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّاٰتِ ؕ ذٰلِکَ ذِکْرٰی لِلذّٰکِرِیۡنَ ﴿۱۱۴﴾ۚ (پ۱۲،ھود:۱۱۴)
ترجمۂ کنز الایمان:بےشک نیکیاں برائیوں کو مٹادیتی ہیں۔یہ نصیحت ہے نصیحت ماننے والے کو۔
اور جو نیکیوں اور برائیوں کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوا امید ہے کہ نیکیوں کے سبب اس کی برائیوں کو مٹادیا جائے اور جو گناہوں پر ڈٹا رہا، مغفرت طلب نہ کی اور اسی حالت میں دنیا سے چلاگیا تو اس سے حساب لیا جائے گا اور اس کے عمل کا پورا بدلہ دیا جائے گا سوائے اس شخص کے جسے عفو وکرم کرنے والا بخش دے، بےشک وہ لوگوں کے گناہوں کو بےحد بخشنے والا ہے اور اسے حساب لیتے دیر نہیں لگتی۔
دنیا میں اس طرح رہو کہ تمہیں اس سے جدا ہونا ہے تو خدا کی قسم! تم اس سے چھٹکارا پالوگے اور موت کو ایسے یاد کرو کہ تمہیں ضرور اس کا مزہ چکھنا ہے تو خدا کی قسم! تم اس سے غافل نہیں ہوگے اور آخرت کو یوں گمان کرو کہ تمہیں اس میں داخل ہونا ہے تو خدا کی قسم! تم ضرور اس میں داخل ہوجاؤگے۔