Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
25 - 531
جب آزمائش میں ڈالا جائے تو صبر نہیں کرتا اور شہد سےزیادہ میٹھی چیز باہمی محبت ہے جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اپنے بندوں کے درمیان پیدا فرمائی ہے۔“پھر مجھ سے فرمایا:”تم سے ملاقات کرنا مجھے شہد سے زیادہ پسند ہے۔“
(6158)…حضرتِ سیِّدُنا عبدالملک بن ہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا زُبید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرتِ سیِّدُنا طلحہ بن مُصرِّف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے ان کی بیٹی کا رشتہ مانگا تو آپ نے کہا:”وہ خوبصورت نہیں ہے۔“انہوں نے کہا:”مجھے قبول ہے۔“آپ نے پھر کہا:”اس کی آنکھوں میں کچھ مسئلہ ہے۔“انہوں نے کہا:”میں پھربھی راضی ہوں۔“
شُہرت کا علاج:
(6159)…حضرتِ سیِّدُنا ابوخالد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا طلحہ بن مصرف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ قرأت میں بےحد مشہور ہوگئے تو انہوں نے اس شہرت کو ختم کرنے کے لئے حضرتِ سیِّدُنا امام اَعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی شاگردی اختیارکرلی۔
استادکودشواری میں نہ ڈالتے:
(6160)…حضرتِ سیِّدُنا امام اعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں:میں نے طلحہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جیسا کوئی شاگرد نہیں دیکھا، اگر میں کھڑا ہوتا اور پھر بیٹھ جاتا تو وہ قرأت موقوف کر دیتے اور اگر میں  گھٹنوں پر چادر باندھے بیٹھا ہوتا پھر چادر کو کھول دیتا تو وہ قرأت روک دیتے کیونکہ وہ مجھے دشواری میں ڈالنا نہیں چاہتے تھے۔
(6161)…حضرتِ سیِّدُنا امام اَعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کابیان ہےکہ طلحہ بن مُصرِّف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ میرے پاس آیا کرتے تھے، میں انہیں علم قرأت سکھایا کرتا تھا، جب تک میں خود پڑھانے نہیں آتا وہ مجھے بُلاتے نہیں تھے اور اگر میں کھنکھارتا یا کھانستا تو وہ اُٹھ کرچلے جاتے۔
(6162)…حضرتِ سیِّدُناامام اَعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ طلحہ بن مُصرِّف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مجھے سبق سنایا کرتے، جب میں کہیں گرفت کرکے انہیں لُقمہ دیتا تو کہتے:”ہم نے اسی طرح پڑھا تھا۔“مزید بیان کرتے ہیں:اگر میں اپنے ہاتھ یا پاؤں کو حرکت دیتا تو وہ سلام کر کے روانہ ہو جاتے۔