Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
249 - 531
حضرتِ سیِّدُنا عطاء بن میسرہ خَراسانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی
	حضرتِ سیِّدُناابوعثمان عطاء بن میسرہ خُراسانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی بھی تابعین کرام میں سےہیں۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہخود کو موت کی تیاری پر ابھارتے، مہلت کے دھوکے میں پڑنے سے نفرت کرتے، ماہر فقیہ، باعمل واعظ ، آخرت کی تیاری میں مصروف رہتےاوردنیا سے جانےپر یقین رکھتے تھے۔
	عُلَمائےتصوف فرماتےہیں:ہدایت کےمتعلق غوروفکرکرنے، قبر وحشر کے لئے تیار رہنےاور(آخرت بہتر بنانےوالے) اسباب کی طرف سبقت کرنے کانامتَصَوُّف ہے۔
رات بھر قیام اور دن میں جہاد:
(6893)…حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمٰن بن یزید بن جابر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَافِر  بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرتِ سیِّدُنا عطاء خُراسانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کے ساتھ جہاد میں شریک ہوتے تھے، آپ رات بھر نماز پڑھتے، جب رات کا تہائی یا آدھا حصہ گزرجاتا تو اپنے خیمے سے ہمیں آواز دیتے:”اے عبدالرحمٰن بن یزید، اے یزید بن جابر، اے ہشام بن غاز،اے فلاں، اے فلاں اُٹھ جاؤ، وضوکرو اور نماز پڑھو بےشک ابھی راتوں میں نماز پڑھنا اور دن میں روزے رکھنا پیپ والی شراب (یعنی دوزخی شراب)پینے اور لوہے کی زنجیروں سے آسان ہے، جلدی کرو جلدی کرو، نجات کاراستہ لو۔“یہ کہنے کے بعد آپ پھر نماز پڑھنے میں مشغول ہوجاتے۔
(6894)…حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمٰن عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرتِ سیِّدُنا عطاء خراسانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کے ساتھ جہاد میں شریک ہوتے تھے۔ آپ رات بھر نماز پڑھتے بس سحر کے وقت تھوڑا سوتے۔
سیِّدُنا عطاء خراسانیعَلَیْہِ الرَّحْمَہ کی نصیحت:
(6895)…حضرتِ سیِّدُنا یزید بن یزید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْد  بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عطاء خراسانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے ایک دن گفتگو کے دوران فرمایا:میں تمہیں دنیا کے متعلق وصیت نہیں کروں گا، اس بارے میں تمہیں وصیت کردی گئی ہے اور تم اس کی بےحد خواہش رکھتے ہو،میں تمہیں آخرت کے بارے میں وصیت کروں گا۔ آخرت سکھاتی ہے کہ کوئی شخص اس وقت تک آزاد نہیں جب تک اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اسے دوزخ سے آزاد نہ