(6888)… اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صِدِّیقَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَابیان کرتی ہیں:میں نےحضور نبیِّ کریم، رءُوفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو نعلین کے بغیر اور نعلین پہنے ہوئے (دونوں طرح ) نماز پڑھتے دیکھا(1) نیز آپ کو (نماز کے بعد) دائیں اور بائیں دونوں جانب رخ کرکے بیٹھےدیکھا(2)۔(3)
(6889)…حضرتِ سیِّدُنا مغیرہ بن شعبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حبیب، حبیب لبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قضائے حاجت کے لئے نکلے۔ میں پانی کا برتن لےکر آپ کے پیچھے چل دیا اور فراغت کے بعد برتن آپ کو دےدیا۔ آپ نے اپنے مبارک ہاتھ جبے کے نیچے سے نکالے، وضو کیا اور موزوں پر مسح فرمایا۔(4)
(6890)…حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ مالک دوجہان، سرورِذیشان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”قرآن میں جھگڑنا کفر ہے(5)۔“ (6)
(6891)…حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مُسیِّبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ جب خراسان کے قریبی علاقے فتح ہوئے توامیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعُمَرفاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ رونے لگے۔ حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ان کےپاس حاضر ہوئے اور پوچھا:”امیرالمؤمنین!آپ رو رہے ہیں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…اس پرحاشیہ ماقبل روایت:6460کےتحت ملاحظہ فرمائیں۔
2…مفسرشہیرحکیم الامت مفتی احمدیارخان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیمراٰۃ المناجیح،جلد2،صفحہ111پرایک حدیث کےتحت فرماتے ہیں:(حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) اکثر اوقات سلام پھیرکر دعا کے لیے داہنی جانب رخ فرماتے تھے اس لئے فقہاء فرماتے ہیں کہ امام دعا کے وقت ہرطرف پھرسکتا ہے مگر داہنی طرف پھرنا بہتر کیونکہ نبیصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کو داہنی جانب محبوب تھی۔
3…نسائی،کتاب السھو،باب الانصراف من الصلاة،ص۲۳۴،حدیث:۱۳۵۸
4…بخاری،کتاب الوضوء،باب المسح علی الخفین،۱/ ۹۲،حدیث:۲۰۳
5…مفسرشہیرحکیم الامت مفتی احمدیارخان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح،جلد1،صفحہ208پرفرماتےہیں:یعنی آیات قرآنیہ کے معانی میں ایسا جھگڑا کرنا جس سے لوگ شک میں مبتلا ہوجائیں قریباً کفر ہے کیونکہ لوگوں کے کفر کا ذریعہ ہے یا متشابہات کی تاویلوں میں جھگڑنا کفرانِ نعمت ہے یا قرآنی آیات اور آیات کی متواتر قرأتوں میں یہ جھگڑا کرنا کہ یہ کلام الٰہی ہیں یا نہیں کفر ہے یا قرآن کو اپنی رائے کے مطابق بنانے میں جھگڑنا کہ ہر ایک اپنی رائے اور ایجاد کردہ مذہب کے مطابق اس کا ترجمہ یاتفسیرکرے یہ کفر ہے۔
6…ابو داود،کتاب السنة،باب النهی عن الجدال فی القراٰن،۴/ ۲۶۵،حدیث:۴۶۰۳