میری جان ہے! انسان کی جان اس وقت تک نہیں نکلتی جب تک ہررگ پر تکلیف نہ پہنچے۔(1)
اولیاءُ اللہ کی شان:
(6869)…حضرتِ سیِّدُنا واثَلہ بن اسقع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:قیامت کے دن اللہ عَزَّ وَجَلَّ ایک بندے کو زندہ فرمائے گا جس کے نامَۂ اعمال میں کوئی گناہ نہ ہوگا۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سےفرمائے گا:تجھےدونوں باتوں میں سے کیا پسند ہےکہ تجھے تیرے اعمال کابدلہ دوں یا اپنے احسان اورفضل کے ساتھ بدلہ دوں؟“بندہ کہے گا:”مولا! تو جانتا ہے کہ میں نے تیری نافرمانی نہیں کی۔“اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرمائے گا:”میرے بندے کو میری نعمتوں میں سے کسی ایک کے بدلے پکڑلو۔“تو اس کے پاس کوئی نیکی باقی نہ رہے گی، ساری نیکیاں ایک نعمت گھیر لےگی۔ بندہ کہےگا:”مولا!اپنی رحمت اور فضل سے بدلہ عطافرما۔“رب تعالیٰ فرمائے گا:”میری رحمت اور میرے فضل (سے بدلہ ملے گا)۔“اتنے میں ایک اورشخص کو لایا جائے گا جس کے نامَۂ اعمال میں کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرمائےگا:کیاتومیرےاولیاسےدوستی رکھتاتھا؟وہ کہےگا:میں تولوگوں سےدوررہتاتھا۔فرمائےگا:کیاتو میرے دشمنوں سے دشمنی رکھتا تھا؟بندہ کہے گا:”مولا! میری کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔“اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرمائے گا: جو میرے اولیا سے دوستی اور میرے دشمنوں سے دشمنی نہ رکھے وہ میری رحمت سے محروم ہے۔(2)
(6870)…حضرتِ سیِّدُنا ابوامامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان رسولُاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی موجودگی میں مسکراتے ہوئے اشعار کہتے تھے اور آپ بھی مسکراتے۔(3)
دھوکا دہی کا وبال:
(6871)…حضرتِ سیِّدُنا ابواُمامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حسن اخلاق کے پیکر، شافع محشر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:جب کوئی مسلمان کسی مسلمان پر اعتماد کرے اور وہ اسے دھوکا دے تو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…التذكرة باحوال الموتی وامور الآخرة للقرطبی،باب تلقین المیت:لا الہ الا اللّٰہ،ص۳۵
2…معجم کبیر،۱۹/ ۵۹،حدیث:۱۴۰
3…نسائی،کتاب السھو،باب قعود الامام فی مصلاہ بعد التسلیم،ص۲۳۴،حدیث:۱۳۵۵،عن جابر بن سمرة