(6155)…حضرتِ سیِّدُناعلاء بن عبدالکریم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّحِیْم بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنا طلحہ بن مصرف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مجھے ہنستے ہوئے دیکھا تو فرمایا:”تم تو ایسے شخص کی طرح ہنس رہے ہو جو جنگ جماجِم(1) میں شریک نہ ہوا ہو(اس جنگ میں شرکت کو فتنہ سمجھا جاتا تھا)۔“کسی نے پوچھا:”ابومحمد! کیا آپ جماجم میں شریک تھے؟“آپ نے فرمایا:”میں نے اس میں تیر چلائے تھے۔“اور اپنی کہنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:”کاش! میرا ہاتھ یہاں سے کاٹ دیا جاتا لیکن میں اس جنگ میں شریک نہ ہوا ہوتا۔“
(6156)…حضرتِ سیِّدُناابوجَناب عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّاب بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیِّدُناطلحہ بن مصرف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو فرماتے سنا:”میں جَماجم میں شریک ہوا مگر کوئی تیر چلایا نہ نیزہ زَنی کی اور نہ کسی کو قتل کیا۔ کاش!میرا یہ ہاتھ یہاں سے کاٹ دیا جاتا اور میں اس جنگ میں شریک نہ ہوتا۔“(2)
مومن اور کافر کی پہچان:
(6157)…حضرتِ سیِّدُنا سفیان بن مالک عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْخَالِق بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُناطلحہ بن مُصرِّف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے پوچھا:”وہ کونسی چیز ہے جو خوشحالی وخشک سالی ہَردوحالت میں طاقتور رہتی ہے؟ اور وہ کونسی چیز ہے جو خوشحالی وخشک سالی میں کمزور ہو جاتی ہے؟ اور کونسی چیز شہد سے زیادہ میٹھی ہے؟“پھر خودہی جواب دیتے ہوئے فرمایا:”خوشحالی و خشک سالی ہر دوحالت میں ایمان طاقتور رہتا ہے کہ جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ مومن کو عطا فرمائے تو وہ شکر ادا کرتا ہے اور جب آزمائش میں ڈالا جائے تو صبر کرتا ہے اور فسق وکفر کے سبب خوشحالی اور قحط ہرحالت میں بندہ کمزور رہتا ہے کہ جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے عطا کرے تو وہ شکر ادا نہیں کرتا اور
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…فرات کی جانبِ مغرب کوفہ سے تقریباً7فرسخ(کم وبیش21میل)کے فاصلے پر واقع ایک مقام ”دَیْرجَماجِم“ ہے۔(اردو دائرۂ معارف اسلامیہ، ۹/ ۵۳۷) یہاں حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمٰن بن اشعث رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اور حجاج بن یوسف کے درمیان ۸۲ یا ۸۳ہجری میں جنگ ہوئی تھی۔(تاریخ الاسلام للذھبی ، باب احداث سنة اثنتین وثمانین، ٦/ ۸، ۹)
2…اس روایت میں تیر چلانے کی نفی ہے جبکہ پچھلی روایت میں تیر چلانے کا ذکر ہے۔ بظاہر دونوں روایات میں تعارض و اختلاف ہے مگر دیگر کتب میں موجود روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جہاں تیر چلانے کا ذکر ہے وہاں مرادیہ ہے کہ تیر تو چلائے مگر وہ فریق مخالف کو لگے نہیں اور جہاں تیر چلانے کی نفی ہے اس سے مراد ہے کہ اپنے تیروں سے کسی کو قتل نہیں کیا۔ جیساکہ اس روایت میں ہے:”میں جنگ جماجم میں شریک تھا، میں نے تیر چلائے مگر درست نشانے پر نہ لگے۔“ (مسندابن الجعد، ص۳۹۹، رقم:۲۷۲۵)