رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کو فرماتے سنا:والدین کے ساتھ بھلائی سے پیش آنا گناہوں کو مٹاتا ہے،(1)جب تک انسان اپنے کنبے کے بڑے شخص کے ماتحت رہتا ہے بھلائی پر قادر رہتا ہے۔
(6857)…حضرتِ سیِّدُناثابت بن ثَوبانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنبیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا مکحول دمشقی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:جو شخص کسی کی دل جوئی کرتے ہوئے فوت ہوا وہ شہید ہے۔
(6858)…حضرتِ سیِّدُنا ابن جابر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَافِر بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ یزید بن عبدالملک بن مروان حضرتِ سیِّدُنا مکحول دمشقی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اور ان کے رفقاء کے پاس آیا۔ جب ہم نے اسے دیکھا تو اس کے لئے جگہ کشادہ کرنا چاہی۔ آپ نے فرمایا:”اپنی اپنی جگہ بیٹھے رہو، اسے جہاں جگہ ملے وہیں بیٹھنے دو تاکہ عاجزی سیکھے۔“
(6859)…حضرتِ سیِّدُنا ابن جابر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَافِر کہتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا مکحول دمشقی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیاس فرمانِ باری تعالیٰ:
لَتَرْکَبُنَّ طَبَقًا عَنۡ طَبَقٍ ﴿ؕ۱۹﴾ (پ۳۰،الانشقاق:۱۹) ترجمۂ کنز الایمان:ضرور تم منزل بمنزل چڑھوگے۔
کی تفسیر میں فرماتےہیں: ہر20سال بعد تم ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل ہوجاؤگے۔
فکروں میں کمی کا طریقہ:
(6860)…حضرتِ سیِّدُنا عَمرو بن فرُّوخ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا مکحول دمشقی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:جو خوشبولگائے اس کی عقل تیزہوتی ہے اور جو صاف ستھرے کپڑے پہنے اس کی فکریں کم ہوتی ہیں۔
روزہ دار کی غذا:
(6861)…حضرتِ سیِّدُنا اُمیّہ بن یزید قریشی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کہتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا مکحول
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…نیک اعمال گناہِ صغیرہ کا کفارہ بنتے ہیں گناہِ کبیرہ بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتے۔ مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:خیال رہے کہ گناہِ کبیرہ جیسے کفر وشرک، زنا، چوری وغیرہ یوں ہی حقوق العباد بغیر توبہ وادائے حقوق معاف نہیں ہوتے۔(مراٰۃ المناجیح، ۱/ ۳۶۰)