میں جس مَشقت وتھکن میں کل تھا آج بھی ویساہی ہوں مگر گزشتہ لذت دوبارہ نہ آپ محسوس کرتے ہیں نہ میں گزری ہوئی تکلیف دوبارہ محسوس کرتا ہوں۔“حضرتِ سیِّدُنا سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام نے دوسری بات کی وضاحت چاہی تو اس نےکہا:”میں نے خود سے یہ کہا کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام بھی اس دنیا میں ہمیشہ نہیں رہیں گے اور مجھے بھی مرجانا ہے۔“ارشاد فرمایا:”تم نے سچ کہا۔“ کسان عرض گزار ہوا:”تیسری بات میں نے فقط خود کو خوش کرنے کے لئے کہی تھی کہ بروزِ قیامت آپ عَلَیْہِ السَّلَام سے ان نعمتوں کے متعلق پوچھ جائے گا مجھ سے سوال نہیں ہوگا۔“یہ سن کر حضرتِ سیِّدُنا سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام گھوڑے سے اُتر کر سجدے میں گرگئے اور روتے ہوئے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی:”اے میرے رب! اگر تو جواد اور بخل سے پاک نہ ہوتا تو میں ضرور تجھ سے ان نعمتوں کے واپس لینے کا سوال کرتا۔“اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے وحی فرمائی:”اے سلیمان!اپنا سر اٹھالو کیونکہ اپنے بندے سے راضی ہوکر جو نعمت اسے عطا کرتا ہوں اس کا حساب نہیں لوں گا۔“
کوّے کے بچے کی غذا:
(6854)…حضرتِ سیِّدُنا مکحول دمشقی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا داؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام یوں دعا کرتے تھے:”اے کوّے کے بچے کو گھونسلے میں رزق دینے والے۔“اس طرح دعا اس لئے کرتے تھے کیونکہ کوّے کا بچہ جب انڈے سے نکلتا ہے تو سفید ہوتا ہے، کوّا اسے دیکھ کر نفرت کرنے لگتا ہے، بچہ جب اپنا منہ کھولتا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ مکھیوں کو بھیج دیتا ہے جو اس کے منہ میں داخل ہوکراس کی غذا بن جاتی ہیں، جب بچہ کالا ہوجاتا ہے تو مکھیاں اس کے پاس آنا بند ہوجاتی ہیں اور کوّا واپس آکر بچے کی غذا کا انتظام کرتا ہے۔
15افراداور25مرتبہ استغفار:
(6855)…حضرتِ سیِّدُناصدَقہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا مکحول دمشقی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی بیان کرتے ہیں:جس اُمت میں ہرروز 15افراد25مرتبہ استغفار کرتے ہوں اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس اُمت کو عذاب نہیں فرماتا۔
والدین کی خدمت کی برکت:
(6856)…حضرتِ سیِّدُنا منیر بن عَلاء رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا مکحول دمشقی عَلَیْہِ