Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
236 - 531
ابلیس!اتنے لمبے سجدے سےتجھے کیافائدہ؟“شیطان نے کہا:”اے نیک شخص کی نیک بیٹی! میں امید لگائے بیٹھا ہوں کہ جب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اپنی قسم پوری فرماچکا ہوگا تو مجھے دوزخ سے نکال دے گا۔“
	حضرتِ سیِّدُنا ابوعُمر دُوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کہتے ہیں:یہ ابلیس ہوکر رحمتِ الٰہی کی آس لگائے بیٹھا ہے تو ہم بندے ہوکر کیوں نہ لگائیں۔
(6852)…حضرتِ سیِّدُنا مکحول دمشقی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیاس فرمانِ باری تعالیٰ:
وَ لَیۡسَ عَلَیۡکُمْ جُنَاحٌ فِیۡمَاۤ اَخْطَاۡتُمۡ بِہٖ وَلٰکِنۡ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوۡبُکُمْ ؕ وَ کَانَ اللہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۵﴾ (پ۲۱،الاحزاب:۵)	
ترجمۂ کنز الایمان:اور تم پر اس میں کچھ گناہ نہیں جو نادانستہ تم سے صادر ہوا ہاں وہ گناہ ہے جو دل کے قصد سے کرو اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
	کی تفسیر میں فرماتے ہیں:جو گناہ انجانے میں کیا جائے وہ معاف ہے اور جو جان بوجھ کر کیا جائے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اسے بخش دے گا۔
سیِّدُنا سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام اور ایک کسان کامکالمہ:
(6853)…حضرتِ سیِّدُناابوعبْدُالرحمٰن دِمشقیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیبیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا مکحول دمشقی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:ایک بار حضرتِ سیِّدُنا سُلیمان بن داؤد عَلَیْہِمَا السَّلَام بالوں سے بنی ہوئی ایک چٹائی پر تشریف فرما تھے اور ان کے اصحاب ان کے گرد بیٹھے تھے۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے ہَوا کو حکم دیا تو اس نے چٹائی کو اوپر اٹھالیا، جنات وانسان آپ کے سامنے چلنے لگے، پرندوں نے سایہ کردیا۔ ایک کسان کھیت میں کام کررہا تھا۔ اس نے دل میں کہا:”اگر حضرتِ سیِّدُنا سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام میرے سامنے ہوتے تو میں ان سے تین باتیں کرتا۔“اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی طرف وحی فرمائی کہ کسان کے پاس جائیے۔ آپ گھوڑے پر سوار ہوکر اس کے پاس پہنچے اور فرمایا:”اے کسان! میں سلیمان ہوں، تم جو پوچھنا چاہتے ہو پوچھو۔“ کسان عرض گزار ہوا:”آپ کو میر ے دل کے ارادے  کا علم کیسے  ہوا؟“ارشاد فرمایا:”اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے مجھے اس کا علم عطا فرمایا۔“ کسان نے عرض کی:”میں نے اس علم  پر یقین کیا۔ خدا کی قسم! جب میں نے آپ کو نعمتوں میں دیکھا تو خود سے کہنے لگا کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی گزشتہ لذتیں اور نعمتیں ختم ہوجاتی ہیں جبکہ