اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:مؤمنین نرم دل اور نرم طبیعت ہوتے ہیں جیسے نکیل والا اونٹ کہ اگر چلایا جائے تو اطاعت کرے اور اگر پتھر پر بٹھایا جائے تو بیٹھ جائے۔
سلامتی تنہائی اختیار کرنے میں ہے:
(6846)…حضرتِ سیِّدُنا امام اوزاعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا مکحول دمشقی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:”فضیلت اگرچہ جماعت میں ہے مگر سلامتی تنہائی میں ہے۔“
(6847)…حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمٰن بن یزید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا مکحول دمشقی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کو فرماتے سنا:قیامت قائم ہونے سے پہلے لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ علماکو مردار گدھے سے زیادہ برا سمجھا جائے گا۔
فرائض کے بعدافضل عمل:
(6848)…حضرتِ سیِّدُنا ابوعبداللہ شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا مکحول دمشقی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:فرائض کے بعد افضل عبادت بھوکا پپاسا رہنا ہے۔
بھلائیوں سےمحرومی کاایک سبب:
حضرتِ سیِّدُنا بکر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں:منقول ہےکہ بھوکا پیاسا شخص نصیحت جلد قبول کرتا ہے، اس کا دل جلد نرم ہوجاتا ہے نیز یہ بھی کہا جاتا ہے کہ زیادہ کھانے سے بندہ بہت سی بھلائیوں سے محروم ہوجاتا ہے۔
رب تعالیٰ کاپسندیدہ بندہ:
(6849)…حضرتِ سیِّدُنا ابوحبیب مَوصِلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا مکحول دِمَشقی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:حضرتِ سیِّدُنا عیسٰی بن مریم عَلَیْہِ السَّلَام نے جب حضرتِ سیِّدُنا یحییٰ بن زکریا عَلَیْہِمَا السَّلَام سے مسکراکر ملاقات کی اور مصافحہ کیا تو حضرتِ سیِّدُنا یحییٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے پوچھا:”اے میری خالہ کے بیٹے! میں آپ کو یوں مسکراتے دیکھ رہا ہوں گویا آپ امن پاچکے؟“حضرتِ سیِّدُنا عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام نے کہا:”اے میری خالہ کے بیٹے! میں آپ کی پیشانی پر شِکَن دیکھ رہا ہوں گویا آپ مایوس ہوگئے ہیں؟“اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان