Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
230 - 531
موت کو پسند کرو:
(6827)…حضرتِ سیِّدُناابوعبدربّرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرتِ سیِّدُنا مکحول دمشقی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے پوچھا:”اےابوعبداللہ!کیاآپ جنت کوپسند کرتے ہیں؟“آپ نے فرمایا:”جنت کسے پسند نہیں، تم موت کو پسندکرو کیونکہ موت کے بغیرجنت نہیں دیکھ پاؤگے۔“
(6828)…حضرتِ سیِّدُنا سفیان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا وَہْب بن مُنَبّہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرتِ سیِّدُنا مکحول دمشقی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کو خط لکھا:”آپ  اسلام کے ظاہری علم سے مشرف  ہوچکے، اب محبت وقرب کے لحاظ سے اسلام کا باطنی علم حاصل کیجئے۔“
تکمیل علم کےلئےسوالات:
(6829)…حضرتِ سیِّدُنا علی بن حَوشب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا مکحول دمشقی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:میں دِمَشق آیا تو علم کی کچھ باتیں زیادہ  نہیں جانتاتھا، دمشق کے اہل علم حضرات نےمیرے سوالوں کے جواب نہ دیئے حتّٰی کہ وہ دنیاسے رخصت ہوگئے۔ 
(6830)…حضرتِ سیِّدُنا ابورزِین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْنبیان کرتےہیں کہ جب لوگ حضرتِ سیِّدُنا مکحول دمشقی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے تقدیر کے متعلق کثرت سے پوچھنے لگے تو میں نے سوچا میں بھی ان سے ایک سوال کرلوں۔ چنانچہ میں نے پوچھا:”ایک مقروض شخص جس کے پاس ایک باندی  کے علاوہ کوئی اور مال نہ ہو، کیا وہ باندی سے عزل(1)کرسکتا ہے؟“ارشاد فرمایا:”نہیں،اسے عزل کی اجازت نہیں کیونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  نے جس جان کاآنالکھ دیا ہے وہ آکر رہے گی لہٰذا اس کا عزل کرنا درست نہیں۔
اچھی نیت پر ثواب کی امید:
(6831)…مروی ہےکہ حضرتِ سیِّدُنا مکحول دمشقی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی حضرتِ سیِّدُنا حکیم بن حِزام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی عیادت کے لئے حاضرہوئے تو عرض کی:”اس سال حج پر جانے کے متعلق آپ کا کیا خیال
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…عزل سے متعلق تفصیلی حاشیہ ماقبل روایت:6710کے تحت ملاحظہ فرمائیے۔