Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
23 - 531
عیسٰی رُوْحُاللہعَلَیْہِ السَّلَام جوکہ مجھ سے افضل ہیں وہ جب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض گزار ہوئے:
اِنۡ تُعَذِّبْہُمْ فَاِنَّہُمْ عِبَادُکَ ۚ وَ اِنۡ تَغْفِرْ لَہُمْ فَاِنَّکَ اَنۡتَ الْعَزِیۡزُ الْحَکِیۡمُ ﴿۱۱۸﴾ (پ۷،المائدة:۱۱۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اگرتوانہیں عذاب کرےتووہ تیرے بندے ہیں اوراگرتوانہیں بخش دےتوبےشک توہی ہےغالب حکمت والا۔
	تواللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ان کی اِلتجا بنی اسرائیل کے حق میں قبول فرمائی جن کے مقابلے میں حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی شان بلند ہے۔
	حضرتِ سیِّدُنا عَلاء بن کَرِیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کہتے ہیں:میں نے سلیمان کے غصے کو کم ہوتا دیکھا حتّٰی کہ سارا غصّہ ختم ہو گیا۔ پھر سلیمان نے کہا:”انہیں جانے دو۔“چنانچہ وہ لوٹ گئے۔ میں نے ہزاروں لوگ دیکھے مگر اس جیسا شخص نہ دیکھا اور وہ حضرتِ سیِّدُنا طلحہ بن مُصرِّف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تھے۔
(6151)…حضرتِ سیِّدُنا حَرِیش بن سُلیم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُناطلحہ بن مصرف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ یوں دعا کیا کرتے تھے:”اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ! مجھے دِکھاوے اور شُہرت سے محفوظ رکھ۔“
(6152)…حضرتِ سیِّدُنا محمد بن فضیل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے والد بیان کرتے  ہیں کہ ہم حضرتِ سیِّدُنا طلحہ بن مصرف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی عیادت کے لئے گئے، حضرتِ سیِّدُناابوکعب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے کہا:”شَفَاکَ اللہ یعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ آپ کو شفا عطا فرمائے۔“آپ نے فرمایا:”میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے خیر کا سوال کرتا ہوں۔“
مسلمان کو جھوٹ پر مجبور نہ کرو:
(6153)…حضرتِ سیِّدُنا سَری بن مُصرِّف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُناطلحہ بن مصرف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ایک شخص کو  کسی سے معذرت کرتے دیکھا تو فرمایا:”اپنے بھائی سے اس قدر معذرت نہ کرو کہ وہ تمہاری وجہ سے جھوٹ میں مبتلا ہوجائے۔“
(6154)…حضرتِ سیِّدُنا لیث رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرتِ سیِّدُنا طلحہ بن مصرف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ساتھ کہیں جارہا تھا۔ اُنہوں نے مجھ سے کہا:”اگر مجھے علم ہوجائے کہ آپ مجھ سے بڑے ہیں اگرچہ ایک رات تو میں آپ سے آگے نہ بڑھوں۔“