صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”انسان اس وقت تک کمالِ ایمان کو نہیں پہنچ سکتا جب تک جھوٹ اور مِزاح اگرچہ بات سچ ہو چھوڑ نہ دے اور حق پر ہونے کے باوجود لڑائی جھگڑاترک نہ کردے۔“(1)
فرض نمازکے بعدکاایک وظیفہ:
(6821)…حضرتِ سیِّدُنا مُغیرہ بن شُعبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے آزادکردہ غلام حضرتِ سیِّدُناورّاد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں:حضرتِ سیِّدُنا امیرمعاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرتِ سیِّدُنا مغیرہ بن شعبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو خط لکھا:”کیا رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرض نماز کے بعدکچھ پڑھتے تھے؟“انہوں نے جواب لکھا:بےشک نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرض نماز کے بعدیہ پڑھتے تھے:”لَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ءٍ قَدِیْرٌ اَللّٰھُمَّ لَامَانِعَ لِمَااَعْطَیْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا یَنْفَعُ ذَالْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ یعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہےاوراسی کےلئےحمد ہے،وہ ہرچیزپرقادرہے،اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ!جوتودےاسےکوئی روک نہیں سکتااورجوتوروکے اسےکوئی دےنہیں سکتا،تیرےمقابل غنی کوغنانفع نہیں پہنچاتی۔“(2)
(6822)…حضرتِ سیِّدُنامغیرہ بن شعبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے وضو کیا اور موزوں کے اوپر نیچے مسح فرمایا(3)۔(4)
(6823)…حضرتِ سیِّدُنا عُبادہ بن صامت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضورِاکرم، شافِع اُمَم صَلَّی اللہُ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مسند شامیین،رجاء عن عبد الرحمن بن غنم الاشعری،۳/ ۲۱۵،حدیث:۲۱۱۵
2…مسلم،کتاب المساجد،باب استحباب الذکر بعد الصلاة،ص۲۹۸،حدیث:۵۹۳
3…موزوں کے اوپری حصہ پر مسح کرنا سنت ہے۔ حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں: اگر دین رائے سے ہوتا تو موزوں کے نیچے مسح کرنا اوپر مسح کرنے سے بہتر ہوتا، میں نے رسولُاللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کو دیکھا ہے کہ آپ موزوں کے اوپر مسح کرتے تھے۔اس کےتحت مفسرشہیرحکیم الامت مفتی احمدیارخان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں: موزوں کے صرف ظاہر پر مسح ہوگا نہ کہ تلے پر جیساکہ ہمارے امام صاحب (امام اعظم ابوحنیفہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ)کا قول ہے۔
(مراٰۃ المناجیح، ۱/ ۳۳۹)
4…مسندامام احمد،مسند الکوفیین،حدیث المغيرة بن شعبة،۶/ ۳۴۰،حدیث:۱۸۲۲۲