اللہ عَزَّ وَجَلَّ! مجاہدین کو سلامتی اور مال غنیمت عطافرما۔ چنانچہ ہم نے غزوہ میں شرکت کی اورسلامتی کےساتھ مال غنیمت حاصل کیا۔پھر جب چوتھی مرتبہ بارگاہِ رسالت میں حاضرہوا تو عرض کی: یارسولَاللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم! مجھے کسی ایسے عمل کی تلقین فرمائیے جس کے سبب اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے نفع دے۔ ایک روایت میں ہے کہ جو مجھے جنت میں داخل کردے۔“ارشاد فرمایا:”روزے رکھو کیونکہ اس کے برابر کوئی عمل نہیں۔“
راوی بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد سے حضرتِ سیِّدُنا ابوامامہ، ان کی زوجہ محترمہ اور خادم اکثر روزے رکھا کرتے تھے اگر دن میں ان کے گھر آگ یا دھواں دکھائی دیتا تو لوگ جان لیتے کہ ان کے گھر مہمان آیا ہوا ہے۔
ایک درجہ بلنداورایک گناہ معاف:
حضرتِ سیِّدُنا ابوامامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ مزید فرماتے ہیں کہ تھوڑے عرصہ بعد میں پھر بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا اور عرض کی:”یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ نے مجھے ایک عمل کا حکم فرمایا تھا، امید ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے سبب مجھے فائدہ دے گا، مجھے ایک اور ایسا عمل بتائیے جس کے سبب اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے فائدہ دے۔“ارشاد فرمایا:”جان لو!اللہ عَزّ َ وَجَلَّ ہرسجدے کے سبب تمہارا ایک درجہ بلند فرماتااور ایک گناہ مٹاتا ہے۔“(1)
(6818)…حضرتِ سیِّدُناامیرمعاویہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسےروایت ہےکہاللہعَزَّ وَجَلَّکےحبیب،حبیب لبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”مَنْ یُّرِدِ اللہُ بِہٖ خَیْرًا یُّفَقِّھْہُ فِی الدِّیْن یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ جس سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اُسے دین کی سمجھ عطا فرمادیتا ہے۔“(2)
(6819)…حضرتِ سیِّدُنا رَجاء بن حیوہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے پوچھا گیا:”کیا آپ لوگ کسی گناہ کو کفر، شرک یا نفاق سمجھتے تھے؟“انہوں نے فرمایا:”اللہ کی پناہ!ہم تو گناہ کے مرتکب کو گنہگار مومن کہتے تھے۔“
کمالِ ایمان میں رکاوٹ:
(6820)…حضرتِ سیِّدُنا فاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضورنَبیِّ رحمت، شَفیعِ اُمت
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مسندامام احمد،مسند الانصار،حدیث ابی امامة الباهلی،۸/ ۲۶۹،حدیث:۲۲۲۰۲
2…بخاری،کتاب العلم،باب من یرد اللّٰہ بہ خیرا...الخ،۱/ ۴۲،حدیث:۷۱