Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
226 - 531
علم اُٹھ جانے سے مراد:
(6813)…حضرتِ سیِّدُنا ابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رسولوں کے سردار، دوعالَم کے مالک ومختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”علم کے اُٹھالئے جانے سے مراد علما کا اٹھا لیا جانا ہے۔“(1)
علم سیکھنےسےہی آتاہے:
(6814)…حضرتِ سیِّدُنا ابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہےکہ سرکارِ مکہ مکرمہ، سردارِ مدینہ منورَّہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”علم سیکھنے سےہی آتا ہےاوربُردباری قوتِ برداشت سے پیدا ہوتی ہے۔جوشخص بھلائی حاصل کرناچاہےاُسےبھلائی عطاکردی جاتی ہےاورجوبُرائی سےبچناچاہےاُسےبچالیا جاتا ہے۔ میں یہ نہیں  کہہ رہا کہ تمہارے لئے جنت ہےہاں وہ  شخص اعلیٰ درجات سے محروم رہے گاجونجومیوں والاکام کرے، تیروں کےپانسےسے فال نکالے اور بدشگونی کے سبب سفر سے لوٹ جائے۔“(2)
شوقِ شہادت:
(17-16-6815)…حضرتِ سیِّدُنا اُبوامامہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ سرکارِ مدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک غزوہ کا ارادہ فرمایا۔ میں بارگارہِ رسالت میں حاضر ہوکر عرض گزار ہوا:یارسولَاللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم!میرے لئے شہادت کی دعا کیجئے۔ آپ نے یوں دعا کی:”اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ! مجاہدین کو سلامتی اور مال غنیمت عطافرما۔“چنانچہ ہم نے سلامتی کے ساتھ غزوہ میں شرکت  کی اور ہمیں مال غنیمت حاصل ہوا۔ پھر ایک غزوہ کا ارادہ فرمایا تو میں نے عرض کی:میرے لئے شہادت کی دعا کیجئے۔آپ نے پھر یہ دعا کی:”اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ! مجاہدین کو سلامتی اور مال غنیمت عطافرما۔“چنانچہ  ہم نے سلامتی کے ساتھ غزوہ میں شرکت کی اور ہمیں مال غنیمت حاصل ہوا۔ پھر تیسری مرتبہ غزوہ کا ارادہ فرمایا تو خدمتِ اَقدس میں حاضر ہوکر میں نے عرض کی: یارسولَاللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم!میں نے دو مرتبہ بارگاہِ عالی میں دعائے شہادت کی درخواست کی تو آپ نے یوں دعا کی:اے 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…دارمی،المقدمة،باب فی ذھاب العلم،۱/ ۸۹،حدیث:۲۴۰عن ابی امامة
2…معجم اوسط،۲/ ۱۰۳،حدیث:۲۶۶۳