حسد اور خودپسندی سے حفاظت:
(6810)…حضرتِ سیِّدُنا ابوعُتبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا رجاء بن حیوہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:”جوبندہ موت کو کثرت سے یاد کرتا ہے وہ حسد اور خودپسندی سے محفوظ رہتا ہے۔“
کیاہی اچھاہےوہ۔۔۔!
(6811)…حضرتِ سیِّدُنا ابوعَجلان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا رجاء بن حیوہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:”کیا ہی اچھا ہے وہ اسلام جو ایمان سے مزیَّن ہو، کیا ہی اچھا ہے وہ ایمان جو تقوٰی سے مزین ہو، کیا ہی اچھا ہے وہ تقوٰی جو علم سے مزین ہو، کیا ہی اچھا ہے وہ علم جو حلم سے مزین ہو اور کیا ہی اچھا ہے وہ حلم جو نرمی سے مزین ہو۔“
سیِّدُنا رجاء بن حیوہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی احادیث
حضرتِ سیِّدُنارجاء بن حیوہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےصحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں سے حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عَمرو، حضرتِ سیِّدُنا ابودرداء، حضرتِ سیِّدُنا ابواُمامہ، حضرتِ سیِّدُنا امیرمُعاویہ،حضرتِ سیِّدُناجابربن عبداللہاور حضرتِ سیِّدَتُناام درداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْسےاحادیث روایت کی ہیں۔جبکہ تابعین کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَاممیں سے حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمٰن بن غَنْم، حضرتِ سیِّدُنا عبادہ بن نُسَی، حضرتِ سیِّدُنا مُغیرہ بن شعبہ کےآزاد کردہ غلام حضرتِ سیِّدُناورَّادرَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیاورعبدالملک بن مروان سے احادیث روایت کی ہیں۔
عالم اورجاہل کی پہچان:
(6812)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عَمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ اُمت کےغمخوار،شَفیعِ روزِشمار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”تھوڑا علم زیادہ عبادت سے بہتر ہے، وہی انسان عالم ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کرے اور انسان کے جاہل ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنی رائے کو پسند کرے، لوگ دو قسم کے ہوتے ہیں:مومن اورجاہل، مومن کو اذیت نہ پہنچاؤ اور جاہل سے میل جول نہ رکھو۔“(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…معجم اوسط،۶/ ۲۵۷،حدیث:۸۶۹۸