عَلَیْہ نے فرمایا:”حلم کا رُتبہ عقل سے بڑھ کر ہے کیونکہ حِلم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی صفت ہے۔“
اَبدال مقرر کردیئے گئے:
(6807)…حضرتِ سیِّدُنا ابوحَفْص عَمرو بن ابوسلَمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا سعید بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کو فرماتے سنا:”کسی نے خواب دیکھا کہ ایک ابدال(1) کا وصال ہوگیا تو حضرتِ سیِّدُنا رجاء بن حیوہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو اس کی جگہ مقرر فرمادیا گیا۔“
(6808)…حضرتِ سیِّدُنا رجاء بن ابوسلَمہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عُقبہ بن وَسّاج رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے حضرتِ سیِّدُنا رجاء بن حیوہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کہا:”اگرآپ میں دوعادتیں نہ ہوتیں تو آپ کامل مردہوتے۔“آپ نےاستفسارفرمایا:”وہ کون سی ہیں؟“حضرتِ سیِّدُناعقبہرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہنےکہا: (۱)لوگ آپ کےپاس چل کرآتے ہیں آپ لوگوں کے پاس نہیں جاتے(۲)آپ نے جانوروں کی ران پراپنانام لکھ رکھا ہےحالانکہ قبیلےکانام ہی کافی ہے۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا:تمہارایہ کہناکہ”لوگ میرےپاس آتے ہیں میں نہیں جاتا“اس کی وجہ یہ ہےکہ وہ مجھ سےپہلےنمازسےفارغ ہوجاتےہیں اوریہ کہناکہ”میں نےجانوروں کی ران پر اپنا نام لکھ رکھا ہے“تو میری نظر میں جانوروں کی ران پر اپنا نام لکھنےمیں کوئی حرج نہیں۔
حفاظَتِ ایمان کی دعا دو:
(6809)…حضرتِ سیِّدُنا ابن ابوجمیلہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرتِ سیِّدُنا رجاء بن حیوہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکواَلوداع کرتےہوئےکہا:”اےابومقدام!اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کی حفاظت فرمائے۔“آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:”اےبھتیجے!جان کی حفاظت کی نہیں بلکہ ایمان کی حفاظت کی دعا دو۔“
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے مراتب میں سے ایک مرتبہ”ابدال“ہے:یہ ہردور میں سات ہوتے ہیں۔ ان کے ذریعے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سات زمین کی حفاظت فرماتا ہے۔ ان میں سے ہرایک کے لئے زمین کا ایک حصہ ہوتا ہے جہاں ان کی ولایت ہوتی ہے۔ یہ ساتوں بالترتیب ان سات انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَام کے قدم پر ہوتے ہیں:(۱)…حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم (۲)…حضرتِ سیِّدُناموسٰی(۳)…حضرتِ سیِّدُناہارون(۴)…حضرتِ سیِّدُناادریس(۵)…حضرتِ سیِّدُنایوسف(۶)…حضرتِ سیِّدُنا عیسٰی اور (۷)…حضرتِ سیِّدُنا آدم عَلَیْہِمُ السَّلَام۔(جامع کرامات اولیاء، ۱/ ۶۹)