Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
223 - 531
میں غَیلان اور صالح(1)کے قتل کا ارادہ پیدا ہوا ہے؟ میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی قسم کھاکرکہتا ہوں ان دونوں کو قتل کرنا دوہزار (کافر)رومیوں اور ترکوں کو قتل کرنے سے بہتر ہے۔
مسلمانوں کے خیرخواہ:
(6803)…حضرتِ سیِّدُنا ابنِ عَون رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے تین لوگوں سے زیادہ کسی کو مسلمانوں کاخیرخواہ نہیں پایا:(۱)…حضرتِ سیِّدُنامحمدبن قاسم(۲)…حضرتِ سیِّدُناامام محمدبن سیرین اور(۳)… حضرتِ سیِّدُنا رجاء بن حیوہ رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی۔
نوافل کی کثرت:
(6804)…حضرتِ سیِّدُنا یحییٰ بن ابوعَمرو شَیْبانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا رَجاء بن حیوہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ عصر آخری وقت(2)میں پڑھا کرتے تھے نیز ظہر وعصر کے درمیان کثرت سےنوافل پڑھا کرتے تھے۔
بھلائی کی بات نیکوں سے سننا پسند کرتے:
(6805)…حضرتِ سیِّدُناابراہیم بن ابوعبلہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں:ہم حضرتِ سیِّدُناعطاء خراسانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کے پاس حاضر ہوتے پھر وہ وعظ ونصیحت فرماتے۔ ایک روز آپ موجود نہ تھے تو کسی مؤذن نےوعظ شروع کردیا۔حضرتِ سیِّدُنارجاء بن حیوہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےاجنبی آوازسنی توفرمایا:”یہ کون ہے؟“اس نے اپنے بارے میں بتایا تو آپ نے فرمایا:”خاموش ہوجا!بھلائی کی بات ہم نیک لوگوں سے ہی سننا پسند کرتے ہیں۔“
(6806)…حضرتِ سیِّدُنا ضمرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنارجاء بن حیوہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…غیلان اور صالح یہ دونوں کفریہ عقائد رکھتے تھے۔ ان کے عقائد کے بارے میں تفصیل جاننے کے لئے اَلْمِلَل وَالنّحَل، صفحہ230تا233 کا مطالعہ کیجئے۔
2…احناف کے نزدیک:وقْتِ عصر:ظہرکاوقت ختم ہونےکےبعدیعنی سواسایہ اصلی کےدومثل ہونےسے،آفتاب ڈوبنے تک ہے۔(بہارشریعت،حصہ۳، ۱/ ۴۵۰،ماخوذاً)