یزید بن مہلب ہے۔
انمول ارشاد:
(6800)…حضرتِ سیِّدُنامحمدبن ذَکوان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا رجاء بن حیوہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا:میں سلیمان بن عبدالملک کےساتھ کھڑاتھا،مجھےاس کےہاں قدرومنزلت حاصل تھی، اچانک ایک شخص آیااورمیرےاچھےکردارکاذکرکرنےلگاپھرسلام کرکےکہنےلگا:اےرجاء!تم خلیفہ سلیمان بن عبدالملک کے ذریعے آزمائش میں مبتلا کیے گئے ہو، اس کا قرب ہلاکت میں ڈال سکتا ہے۔ اے رجاء! تم نیکی کا حکم اور کمزور کی مدد کرتے رہنا۔ اے رجاء! یادرکھو جسے حاکم کے پاس مقام ومرتبہ حاصل ہو اور وہ کسی کمزور ومجبور انسان کی حاجت روائی کرے تو وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اس حال میں ملے گا کہ حساب کے لئے ثابت قدم ہوگا۔ اے رجاء! یادرکھو جو شخص مسلمان بھائی کی حاجت روائی کرتا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی حاجت پوری فرماتا ہے۔ اے رجاء! یادرکھو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل مسلمان کو خوش کرنا ہے۔ اتنا کہنے کے بعد وہ شخص غائب ہوگیا۔راوی کہتے ہیں:آپ کا گمان تھا کہ وہ حضرتِ سیِّدُنا خضر عَلَیْہِ السَّلَام تھے۔
صحبت نہ اپنائی مگر نصیحت جاری رکھی:
(6801)…حضرتِ سیِّدُنارَجاء بن ابوسلَمہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ یزیدبن عبدالملک بیت المقدس آیاتواس نےحضرتِ سیِّدُنا رَجاء بن حیوہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سےعرض کی:مجھے اپنی صحبت کاشرف عطاکیجئے۔ آپ نےانکارکرتےہوئےمعذرت کرلی۔حضرتِ سیِّدُناعُقبہ بن وَسّاجرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےآپ سےعرض کی:”اللہ عَزَّ وَجَلَّآپ کی صحبت سےفائدہ پہنچائےگا۔“آپ نےفرمایا:”جوحضرات تمہاری مراد ہیں وہ کوچ کرچکےہیں۔“حضرتِ سیِّدُناعقبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کہا:”اس قوم میں ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کوئی شخص قریب آنے کے بعد ان سے دور ہوجائے عموماً یہ دور ہونے نہیں دیتے۔“فرمایا:”میں امید کرتا ہوں کہ انہیں وہی کافی ہو جس کی طرف میں انہیں بلاتا ہوں۔“
(6802)…حضرتِ سیِّدُنا ولید بن ابوسائب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا رجاء بن حیوہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ہشام بن عبدالملک کو خط لکھا:اے امیرالمؤمنین! مجھے خبر ملی ہے کہ آپ کے دل