Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
221 - 531
کو نہیں پایا گویا کہ وہ لوگوں سے ملےاورشِیروشَکرہوگئے:(۱)…عراق میں حضرتِ سیِّدُناامام محمدبن سِیرِین (۲)…حجاز میں حضرتِ سیِّدُنا قاسم بن محمداور(۳)…شام میں حضرتِ سیِّدُنا رجاء بن حیوہ رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی۔
ان جیسانمازی نہیں دیکھا:
(6796)…حضرتِ سیِّدُنا عُبید بن سائب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد گرامی فرمایا کرتے تھے:”میں نے حضرتِ سیِّدُنا رجاء بن حیوہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے زیادہ خشوع وخضوع کے ساتھ نماز پڑھتے کسی کو نہیں پایا۔“
سیِّدُنا رَجاء بن حیوہ عَلَیْہِ الرَّحْمَہ کی نصیحت:
(6797)…حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمٰن بن عبداللہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا رَجاء بن حیوہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے عدِی بن عدِی اور مَعن بن مُنذر کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:”اپنے معاملات میں غور کرو جن کے ساتھ رب عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضر ہونے کو پسند کرتے ہو انہیں اختیار کرو اور جن کے ساتھ اس کی بارگاہ میں حاضر ہونے کو ناپسند کرتے ہوں انہیں چھوڑدو۔“
عہدۂ قضاسےگڑھے میں دفن ہونابہترہے:
(6798)…حضرتِ سیِّدُنا علاء بن روبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرتِ سیِّدُنا رجاء بن حیوہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کچھ کام تھا۔ ان کے متعلق معلوم کیا تو لوگوں نے کہا:”سلیمان بن عبدالملک کی طرف ہیں۔“جب میری اُن سے ملاقات ہوئی تو فرما نے لگے:”آج خلیفہ نے ابن موہب کو عہدۂ قضا پر فائز کردیا، اگر مجھے عہدۂ قضا سنبھالنے اور گڑھے میں دفن ہونے کے درمیان اختیار دیا جائے تو میں گڑھے میں دفن ہونا اختیار کروں گا۔“میں نے کہا:”لوگ کہتے ہیں کہ آپ ہی نے انہیں مشورہ دیا تھا؟“فرمایا:”لوگوں نے سچ کہا، میں نے لوگوں کی طرف نظر کی ان کی طرف نہ کی(یعنی لوگوں کے بارے میں سوچا)۔“
(6799)… سُلیمان بن عبْدُالمِلک کےغلام حضرتِ سیِّدُنا ابوعُبَیْدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتےہیں کہ میں نےحضرتِ سیِّدُنارجاء بن حیوہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو دو شخصوں کے بارے میں بُرا کہتے سنا، ان میں سے ایک