Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
220 - 531
(6792)…حضرتِ سیِّدُنا شُفَی اصبحی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی بیان کرتے ہیں:جب میں مدینہ منورہ حاضر ہوا تو دیکھا کہ ایک شخص کے گرد لوگ جمع ہیں، وہ  حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ تھے اور طویل حدیث مبارکہ بیان فرمارہے تھے۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭

حضرتِ سیِّدُنارَجاء بن حَیْوہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
	حضرتِ سیِّدُناابومِقدام رَجاء بن حَیْوہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبھی تابعین کرام میں سےہیں۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہماہر فقیہ اورمہمان نواز تھے، اُمَرا وخُلَفا آپ سے مشورہ طلب کیا کرتے تھے۔
ملک شام کے بہترین شخص:
(6793)…حضرتِ سیِّدُنا مَطر وَرَّاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاق بیان کرتے ہیں:میں نے ملک شام میں حضرتِ سیِّدُنا رجاء بن حیوہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے بہتر کوئی شخص نہیں دیکھا۔
(6794)…حضرتِ سیِّدُناابواسامہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُناابوعونرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جب  اپنے پسندیدہ شخص  کا تذکرہ کرتے تو حضرتِ سیِّدُنا رجاء بن حیوہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا تذکرہ کرتے۔
(6795)…حضرتِ سیِّدُناابن عَونرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ تین اشخاص کی طرح میں نے کسی 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
……جھوٹا ہے، تو اس لئے لڑا کہ تجھے بہادر کہا جائے وہ کہہ لیا گیا۔“پھر حکم ہوگا تو اسے منہ کے بل کھینچا جائے گا یہاں تک کہ آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ پھر جس نے علم سیکھا سکھایا اور قرآن پڑھا اسے لایا جائے گا اور اپنی نعمتوں کا اقرار کروایا جائے گا۔ وہ اقرار کرلے گا تو فرمائے گا:”تو نے شکر میں کیا عمل کیا۔“عرض کرے گا:”علم سیکھا سکھایا اور تیری راہ میں قرآن پڑھا۔“فرمائے گا:”تو جھوٹا ہے، تو نے اس لئے علم سیکھا کہ تجھے عالم کہا جائے، اس لئے قرآن پڑھا کہ قاری کہا جائے وہ کہہ لیا گیا۔“پھر حکم ہوگا تو اسے اوندھے منہ کھینچا جائے گا حتّٰی کہ آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ پھر جسے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے وسعت دی اور ہرطرح کا مال بخشا اسے لایا جائے گا۔ نعمتوں کا اقرار کروائے گا تو یہ کرلے گا۔ رب عَزَّ  وَجَلَّ فرمائے گا:”تو نے شکر میں کیا پیش کیا۔“عرض کرے گا:”میں نے ہراس راہ میں تیرے لئے خرچ کیا جہاں خرچ کرنا تجھے پیارا ہے۔“فرمائے گا:”تو جھوٹا ہے، تونے یہ سخاوت اس لئے کی تھی کہ تجھے سخی کہا جائے وہ کہہ لیا گیا۔“ پھر حکم ہوگا تو اسے اوندھے منہ گھسیٹا جائے گا پھر آگ میں جھونک دیا جائے گا۔(مسلم، کتاب الامارة، باب من قاتل للریا…الخ، ص۱۰۵۵، حدیث:۱۹۰۵)