Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
22 - 531
نے درباریوں سے کہا:”غالباً یہ عراق کے شہر کوفہ کا رہنے والا ہے اور اس کا تعلق قبیلہ ہمدان سے ہے۔“پھر حکم دیا کہ اس شخص کو میرے پاس لاؤ۔ جب اُسے لایا گیا تو اس سے پوچھا:”تم کون ہو؟“اس نے کہا:”ذراٹھہرو! سانس تو لینے دو۔“خلیفہ کے کہنے پر اُسے کچھ مہلت دی گئی اور پھر اس کے علاقے اور قبیلے کے بارے میں پوچھنے پر اس نے عراق کے شہر کوفہ اور قبیلہ ہمدان کا نام لیا تو خلیفہ کی تشویش مزید بڑھ گئی اور پوچھا:”حضرتِ سیِّدُناصدیْقِ اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکےبارےمیں تمہاراکیاعقیدہ ہے؟“اس نےجواب دیا:”بخدا! میں نے ان کا زمانہ پایا نہ انہوں نے میرا، لوگوں نے ان کی اچھائی بیان کی ہے اور اِنْ شَآءَ اللہوہ ایسے ہی ہیں۔“پھرپوچھا:”حضرتِ سیِّدُنافاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکےبارےمیں کیاعقیدہ ہے؟“اس نے کہا:”وہی جو حضرتِ سیِّدُنا صدیْقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بارے میں رکھتا ہوں۔“خلیفہ نے حضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بارے میں پوچھا تواس نے کہا:”اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی قسم!میں نے ان کا زمانہ پایا نہ انہوں نے میرا، بعض لوگ ان کی اچھائی بیان کرتےہیں اوربعض نےان کے بارے میں نازیبا باتیں کی ہیں لیکن ان کا حال اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہی بہتر جانتا ہے۔“پھر خلیفہ نے حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا:”بخدا!وہ بھی حضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرح ہیں۔“پھر خلیفہ نے حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو بُرابھلا کہنے کو کہا تو اس نے کہا:”خداعَزَّ  وَجَلَّکی قسم! میں ان کے بارے میں بُرا نہیں کہوں گا۔“خلیفہ نے اسے دھمکاتے ہوئے کہا:”بخدا!تم اُنہیں بُرا نہ کہو گے تو میں تمہاری گردن اُڑا دوں گا۔“لیکن وہ شخص اپنی بات پر قائم رہا۔ پھر خلیفہ نے اس کی گردن اُڑادینے کا حکم دیا تو ایک شخص کھڑا ہوا جس کے ہاتھ میں تلوار تھی، اس نے تلوار کو زور سے ہلایا تو وہ اس کے ہاتھ میں کھجور کے پتے کی طرح چمکنے لگی، اس نے کہا:”خدا کی قسم! تم اُنہیں بُرا نہ کہو گے تو میں تمہاری گردن اُڑا دوں گا۔“وہ شخص اب بھی اپنی بات پر قائم رہا اور سلیمان کو پکار ا:”افسوس ہے تجھ پر! مجھے اپنے پاس آنے دے۔“خلیفہ نے اُسے اجازت دی تو اس نے کہا:”اے سلیمان!کیا تو میری وہ اِلتجا قبول نہیں کر سکتا جو تجھ سے بلند مرتبہ ہستی نے قبول فرمائی اور اِلتجا کرنے والا مجھ سے افضل تھا لیکن جن کے بارے میں اِلتجا کی گئی تھی حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی شان ان سے کہیں زیادہ ہے؟“خلیفہ نے پوچھا:”تمہارا مطلب کیا ہے؟“اس نے کہا:حضرتِ سیِّدُنا