ارشاد فرمایا:”یہ کتاب ربُّ العالمین کی طرف سے ہے، اس میں دوزخیوں، ان کےآباء واجداداورقبیلوں کے نام ہیں پھرآخر تک کا حساب لگادیا گیا پس ان میں کمی ہوسکتی نہ زیادتی۔“صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی:”یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اگر یہ معاملہ انجام پاچکا ہے تو ہم عمل کیوں کرتے ہیں؟“ارشاد فرمایا:”سیدھے رہو اور قربِ الٰہی حاصل کرو(یعنی نیک اعمال اور دُرست عقائد پرقائم رہو) جنتی کا خاتمہ جنتیوں کے عمل پر ہوتا ہے اگرچہ پہلے کچھ عمل کرے اور یقیناً دوزخی کا خاتمہ دوزخیوں کے عمل پر ہوتا ہے اگرچہ پہلے کچھ عمل کرے۔“پھر دونوں کتابوں کو دست مبارک میں دبالیا اور ارشاد فرمایا:”تمہارا رب عَزَّ وَجَلَّ بندوں کے متعلق فیصلہ فرماچکا ہے سیدھی جانب والا گروہ جنتی ہے اور اُلٹی جانب والا دوزخی ہے۔“(1)
(6789)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عَمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان فرماتے ہیں کہ مدینے کے تاجدار، دوعالَم کے مالک ومختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”قَفْلَۃٌ کَغَزْوَۃ یعنی مجاہد کی واپسی جہاد کی طرح ہے۔“(2)
(6790)…حضرتِ سیِّدُناعبداللہبن عَمرورَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتےہیں:میں نےرسولُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ہزاروں چیزیں سمجھی ہیں۔
ریاکار کا انجام:
(6791)…حضرتِ سیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسےروایت ہےکہاللہ عَزَّ وَجَلَّکےحبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:بروزقیامت تین شخصوں کولایاجائےگا:(۱)…شہید(۲)…سخی اور(۳)…قاری(3)۔(4)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… کمی ممکن ہے۔ خیال رہے کہ لوحِ محفوظ میں محو واثبات کی تحریر بھی ہے اور اُمُّ الکتاب میں صرف قضائے مبرم کی۔ لوحِ محفوظ تک ملائکہ کا علم پہنچتا ہے مگر میرے حضور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کا علم اُمُّ الکتاب تک ہے۔(مراٰۃ المناجیح، ۱/ ۱۰۵)
تقدیر کے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے بہارشریعت حصہ اول کا مطالعہ کیجئے۔
…ترمذی،کتاب القدر،باب ما جاء ان الله كتب كتابا لاهل الجنة واهل النار،۴/ ۵۵،حدیث:۲۱۴۸
2…ابو داود،کتاب الجھاد،باب فى فضل القفل فى سبيل الله تعالٰی،۳/ ۹،حدیث:۲۴۸۷
3…نسائی،کتاب الجھاد،باب من قاتل لیقال فلان جریء،ص۵۰۹،حدیث:۳۱۳۴
4…مکمل حدیث پاک یوں ہے:حضورِ اکرم،نُوْرِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا کہ پہلے جس کا فیصلہ قیامت میں ہوگا وہ شہید ہے۔ اسے لایا جائے گا۔ رب عَزَّ وَجَلَّ اس سے اپنی نعمتوں کا اقرار کروائے گا پھر فرمائے گا:”اس کے شکر میں تونے کیا عمل کیا۔“عرض کرے گا:”تیری راہ میں جہاد کیا حتّٰی کہ شہید ہوگیا۔“اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرمائے گا:”تو …☜