سے بچنے کی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ ہی اسے دھوتا تھا۔“پھر جس کے منہ سے خون اور پیپ بہہ رہا ہوگا اس کے بارے میں کہا جائے گا:”اس بدنصیب کا کیا معاملہ ہے جس نے ہماری تکلیف میں اضافہ کردیا؟“وہ کہے گا:”وہ بدنصیب بُری باتوں کی طرف متوجہ رہتا اور ان سے لذت اُٹھاتا تھا جیسے جِماع کے متعلق گفتگو۔“پھر جو شخص اپنا گوشت کھارہا ہوگا اس کے متعلق پوچھا جائے گا:”اس بدبخت کا کیا معاملہ ہے جس نے ہماری تکلیف میں مزید اضافہ کیا؟“تو فرشتہ جواب دے گا:”یہ بدبخت لوگوں کا گوشت کھاتا(یعنی غیبت کرتا) تھا۔“(1)
ایک روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں:”اس کی گردن لوگوں کے قرض تلے دبی ہوئی تھی نہ اس نے خود اس کی ادائیگی کی نہ اس کی ادائیگی کے لئے مال چھوڑا۔ ایک کہے گا:وہ فحش اور بری باتیں کیا کرتا تھا۔ ایک کہے گا:وہ لوگوں کا گوشت کھاتا اور چغلی کرتا تھا۔“
سیِّدُنا شُفَی بن ماتعرَحْمَۃ اللہِ عَلَیْہ سے مروی احادیث
حضرتِ سیِّدُناشفی بن ماتع اصبحی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِینےحضرتِ سیِّدُناعبداللہبن عَمْروبن عاص،حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ اوردیگر صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سےاحادیث روایت کی ہیں۔
حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا علم:
(6788)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عَمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے درمیان تشریف لائے، دستِ اَقدس میں دو کتابیں تھیں۔ اِستِفسار فرمایا:”کیا تم جانتے ہو ان کتابوں میں کیا ہے؟“صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان عرض گزار ہوئے:”یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ کے بغیر بتائے نہیں جانتے۔“حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے داہنے ہاتھ کی کتاب کے بارے میں ارشاد فرمایا:”یہ کتاب ربُّ العالمین کی طرف سے ہے، اس میں جنتیوں، ان کے آباء واجداد اور قبیلوں کے نام ہیں، آخرمیں اس کا ٹوٹل لگادیاگیاہے پس ان میں کمی ہوسکتی نہ زیادتی۔(2)“پھر بائیں ہاتھ والی کتاب کے متعلق
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…معجم کبیر،۷/ ۳۱۰،حدیث:۷۲۲۶
2…مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اس کے تحت فرماتے ہیں:رب (عَزَّ وَجَلَّ) نے اس میں تقدیرِ مبرم کی تفصیل فرمائی ہے اور مجھے(حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو) اس کا علم بخشا ہے، تقدیرِ معلق اور مشابہ معلق میں زیادتی…☜