زیادہ غلطیوں کا سبب:
(6783)…حضرتِ سیِّدُنا شُیَیْم بن بَیْتان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا شفی اصبحی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا:”جو زیادہ بولے گازیادہ غلطیاں کرے گا۔“
گناہ چھوڑدیناآسان ہے:
(6784)…حضرتِ سیِّدُنا عمار بن سعد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَحَد بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا شفی اصبحی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں:”گناہ چھوڑدینا توبہ کے مقابلے میں آسان ہے۔“
(6785)…حضرتِ سیِّدُنا ابومحمد شَجَرہ بن عبداللہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا شفی اصبحی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں:”نماز میں ایک شخص کا کاندھا دوسرے سے ملا ہوتا ہے حالانکہ ان دونوں میں زمین وآسمان کا فرق ہوتاہےاور ایک ہی گھر میں دو روزے دار شخص ہوتے ہیں حالانکہ ان میں زمین وآسمان کا فرق ہوتا ہے۔“
چاربدنصیب اشخاص:
(87-6786)…حضرتِ سیِّدُنا شُفَی اصبحی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی روایت کرتے ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حبیب، حبیبِ لبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:چار شخص ایسے ہیں جو دوزخیوں کی تکلیف میں اضافہ کردیں گے۔ وہ کھولتے پانی اور آگ کے درمیان ہلاکت وبربادی کی آوازیں لگاتے دوڑیں گے۔ دوزخی ایک دوسرے سے کہیں گے:”یہ کون لوگ ہیں جنہوں نے ہماری تکلیف میں اضافہ کردیا!“ان چاروں میں سے ایک شخص کو انگاروں کے تابوت میں بند کردیا جائے گا، دوسرا اپنی انتڑيوں کو گھسيٹتا ہوگا، تيسرے کے منہ سے پيپ اور خون بہہ رہا ہوگا اور چوتھا اپنا گوشت کھا رہا ہوگا۔ پس تابوت والے کے بارے میں کہا جائے گا:”اس بدبخت شخص کا کیا معاملہ ہے جس نے ہماری تکليف میں اضافہ کرديا؟“فرشتہ بتائے گا:”وہ بدنصیب اس حال میں مرا کہ اس کی گردن لوگوں کے قرض تلے دبی ہوئی تھی۔“پھر اپنی انتڑیاں گھسیٹنے والے کے متعلق کہا جائے گا:”اس بدبخت شخص کا کیا معاملہ ہے جس نے ہماری تکلیف میں اضافہ کردیا؟“تو وہ جواب دے گا:”وہ پیشاب