اسلام کی پختگی:
(6780)…حضرتِ سیِّدُنا ابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ ایک شخص بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکرعرض گزارہوا:”اس اَمر(یعنی اسلام) کی پختگی،اس کی بنیاداورقوت کس میں ہے؟“توحضورنبیِّ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے کلام کو قَسم کے ساتھ مؤَکَّد کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:”اِخلاص کے ساتھ اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کرو، پانچ وقت کی نماز قائم کرو، اپنے مال کی زکوٰۃ خوش دلی سے ا دا کرو، رمضان کے روزے رکھو، بیتُ اللہ کا حج کرو اور اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ کی جنت میں داخل ہوجاؤ۔“(1)
رب عَزَّ وَجَلَّ کا بندے پر حق:
(6781)…حضرتِ سیِّدُنا ابوذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضورِ اکرم،نُوْرِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:حضرت داؤدعَلَیْہِ السَّلَامنےبارگاہِ خداوندی میں عرض کی:”اےاللہعَزَّ وَجَلَّ! تیرے بندے جب تیرے گھر کی زیارت کو آئیں تو ان کا تجھ پر کیا حق ہے کیونکہ ہرمہمان کا میزبان پر حق ہوتا ہے؟“اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:”اے داؤد! بےشک ان کا مجھ پر یہ حق ہے کہ میں انہیں دنیا میں سزا نہ دوں گا اور آخرت میں بخش دوں گا۔“(2)
٭…٭…٭…٭…٭…٭
حضرتِ سیِّدُنا شُفَی بن ماتِع اَصبحی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی
حضرتِ سیِّدُنا شُفَی بن ماتِع اصبحی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیبھی تابعین کرام میں سےہیں۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تنہائی میں عبادت کیا کرتے تھے۔
(6782)…حضرتِ سیِّدُنا قَیس بن رافِع رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا شُفی بن ماتع اصبحی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا:”اس اُمت پر ہرچیز کے خزانے کھول دیئے گئے حتّٰی کہ احادیث مبارکہ کے خزانے بھی کھول دیئے گئے۔“
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…تاریخ ابن عساکر،۶۵/۳۷۳،حدیث:۱۳۳۰۵،الرقم:۸۳۴۰،ابو عثمان یزید بن مرثد الھمدانی
2…معجم اوسط،۴/ ۲۹۷،حدیث:۶۰۳۷