میں اپنے گھروالوں کے پاس ہوتا ہوں، یہ کیفیت میرے اور میرے ارادوں کے درمیان حائل ہوجاتی ہے، جب میرے سامنے کھانا رکھا ہوتا ہے اس وقت یہ کیفیت میرے کھانے کے درمیان حائل ہوجاتی ہے۔ میری زوجہ روتے ہوئے کہتی ہے:”ہائے افسوس!ہمیشہ غمزدہ رہنے کی وجہ سے دنیا کی زندگی میں مجھے آپ پر کچھ اختیار نہ رہا اور نہ کبھی میری آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں۔“
توبہ کا ایک طریقہ:
(6776)…حضرتِ سیِّدُنا ابوفروہ حاتم بن شُفَی ہمدانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا یزید بن مرثد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَحَد کو فرماتے سنا:بنی اسرائیل کا کوئی شخص جب گریہ وزاری کرتا تو یوں عرض گزار ہوتا:”اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!مجھے نافرمانیوں کی سزا نہ دینا، میرے حق میں خفیہ تدبیر نہ فرمانا، تیری رِضا حاصل کرنے میں کوتاہی کرنے پر میری پکڑ نہ فرمانا، میرے گناہ بہت بڑے ہیں، میری مغفرت فرما، اچھے اعمال بجالانا میرے لئے آسان فرما اور انہیں قبول فرما، جو تو چاہتا ہے ہوتا ہے اور تو جو ارادہ فرماتا ہے اُسے پورا فرماتا ہے، اچھائی کرنے والا تجھ سے اور تیری مدد سے بےنیاز نہیں، برائی کرنے والا تجھ پر غلبہ نہیں پاسکتا، کسی کو اختیار نہیں کہ تیری قدرت سے نکل سکے تو میں کیسے نجات پاسکتا ہوں؟تجھ سے پہلے کچھ بھی نہ تھا۔ اے انبیائے کرام کے رب!اے پرہیزگاروں کے رب! بزرگی کے رتبہ کو پیدا فرمانے والے، تجھے فنا نہیں، تو کبھی بھولتا نہیں، ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گا، خود زندہ ہے، تجھے کبھی موت نہیں، کبھی سوتا نہیں، تیرے ہی ذریعے میں تجھے پہچانتا ہوں اور تیری ہی مدد سے تیری طرف ہدایت پاتا ہوں، تیری بیان کردہ صفات کے مطابق ہی میں تجھے جانتا ہوں، تو برکت والا اور بلند وبالا ہے۔
رزق میں تنگی کا سبب:
(6777)…حضرتِ سیِّدُنا یزیدبن مَرثد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَحَد بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا ابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرتِ سیِّدُنا امیرمُعاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے کہا:”اس ذات کی قسم جس کے قبضَۂ قدرت میں میری جان ہے!زمین پر (ناپ تول میں) جس قدر کمی جائے لوگوں کے رزق میں اسی قدر کمی کردی جاتی ہے۔“