Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
213 - 531
ہے؟“اُس راہب نے کہا:”خدا کی قسم!اگر میں تم سے یہ کہوں کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ توبہ کرنے والے کی توبہ قبول نہیں فرماتا تو میں جھوٹا ہوں گا۔ فلاں جگہ جاؤ! وہاں ایک عبادت خانہ ہے، لوگ اس میں عبادت کرتے ہیں، تم ان کے ساتھ عبادتِ الٰہی میں مصروف ہوجاؤ۔“وہ توبہ کی غرض سے وہاں سے نکلا۔ آدھے راستے تک پہنچا تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اس کی طرف موت کا فرشتہ بھیجا جس نے اس کی روح قبض کرلی۔ رحمت اور عذاب کے فرشتے اس کے بارے میں بحث کرنے لگے۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ان کے پاس ایک فرشتہ بھیجا۔ اُس نے اِن سے کہا:”یہ جس عبادت خانہ سے قریب ہوگا اسی کا حق دار ہے۔“جب زمین ناپی گئی تو وہ توبہ کرنے والوں کی زمین کے ایک اُنگل قریب تھا۔ پس اُسے بخش دیا گیا۔(1)

٭…٭…٭…٭…٭…٭

حضرتِ سیِّدُنا یزید بن مرثد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَحَد
	حضرتِ سیِّدُنا یزید بن مَرثد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَحَدبھی تابعین کرام میں سےہیں۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ خوفِ خدا میں آنسوبہانےوالےاورغم زدہ رہنےوالےتھے۔
خوف خدا:
 (6775)…حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمٰن بن یزید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْد  بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا یزید بن مَرثد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَحَد سے پوچھا:”کیا وجہ ہے کہ میں آپ کو آنسو بہاتا ہی دیکھتا ہوں؟“فرمایا:”تم کیا دریافت کرنا چاہتے ہو؟“میں نے کہا:”شاید اللہ عَزَّ  وَجَلَّ آپ کے جواب سے مجھے نفع دے۔“فرمایا:”اے میرے بھائی!اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے مجھے ڈرایا ہے کہ اگر نافرمانی کی تو جہنم میں ڈال دیا جاؤں گا۔ بخدا!اگر مجھے صرف اس بات سے ڈرایا جاتا کہ حمّام میں قید کردیا جاؤں گا تو میری آنکھیں آنسو نہ بہاتیں۔“میں نے پوچھا:”تنہائی میں بھی آپ کی یہی کیفیت ہوتی ہے؟“پھر فرمایا:”تم کیا دریافت کرنا چاہتے ہو؟“میں نے کہا:”شایداللہ عَزَّ  وَجَلَّ آپ کے جواب سے مجھے نفع دے۔“ارشاد فرمایا:بخدا!مجھ پر یہ کیفیت اس وقت بھی طاری ہوتی ہے جب 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…معجم کبیر،۱۹/ ۳۶۹،حدیث:۸۶۷