سیِّدُنا عبیدہ بن مہاجر رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سے مروی احادیث
عمل بھرےہوئےبرتن کی مثل ہے:
(6772)…حضرتِ سیِّدُناابوعبدرب عُبَیدہ بن مہاجرعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَافِربیان کرتےہیں:میں نےحضرتِ سیِّدُنا امیرمُعاویہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکوجامع مسجددِمشق کےمنبرپرفرماتےسناکہ مدینےکےتاجدار،اُمت کےغم خوار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشادفرمایا:”دنیا میں آزمائش اورفتنےباقی بچےہیں،عمل(بھرے ہوئے) برتن کی طرح ہے اگر اس کا ظاہر اچھا ہوگا تو باطن بھی اچھا ہوگا اور اگر ظاہر خراب ہو گاتو باطن بھی خراب ہوگا۔“(1)
(6773)…حضرتِ سیِّدُنا امیرمعاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حبیب،حبیب لبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:”اللہ عَزَّ وَجَلَّکو نہ مغلوب کیاجاسکتاہےنہ دھوکادیاجاسکتاہے اوروہ سب جانتا ہے اسے کسی خبر کی حاجت نہیں، اللہ عَزَّ وَجَلَّ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ عطافرما دیتا ہے۔“(2)
نیکوں کے قُرب کے سبب مغفرت:
(6774)…حضرتِ سیِّدُنا امیرمعاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضورِ اکرم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:ایک شخص گناہوں میں مشغول رہتا تھا، اس نے97 ناحق قتل کیے تھے۔ وہ عیسائیوں کے عبادت خانہ کے راہب کے پاس آیا اور کہا:”اے راہب!جو گناہوں میں مشغول ہو حتّٰی کہ اس نے97ناحق قتل کیے ہوں تو اس کے لئے توبہ کی کوئی صورت ہے؟“راہب نے کہا:”اس کے لئے توبہ کی کوئی صورت نہیں۔“ اس نے اُسے بھی قتل کردیا۔ پھر دوسرے راہب کے پاس آیا اور اس سے وہی کچھ پوچھا جو پہلے سے پوچھا تھا۔ اس نے بھی مایوس کردیا تو اس نے اسے بھی قتل کردیا۔ تیسرے کے پاس آیا، اس نے وہی جواب دیا تو اُسے بھی قتل کردیا۔ پھر کسی اور راہب کے پاس آیااور اس سے کہا:”اے راہب!جو گناہوں میں مشغول ہو حتّٰی کہ اس نے100ناحق قتل کیے ہوں تو اس کے لئے توبہ کی کوئی صورت
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مسندامام احمد،مسند الشامیین،حدیث معاوية بن ابی سفیان،۵/ ۱۸،حدیث:۱۶۸۵۳
2…معجم کبیر،۱۹/ ۳۶۹،حدیث:۸۶۸