Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
211 - 531
آخری سہارا بھی صدقہ کردیا:
	حضرتِ سیِّدُنا ابن جابر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَافِر مزید فرماتے ہیں:ایک مرتبہ میں حضرتِ سیِّدُنا ابوعبدربّ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی بارگاہ میں حاضر ہوا، آپ حوض پر وضو فرمارہے تھے۔ میں نے سلام کیا تو جواب دیتے ہوئے فرمایا:”اے لمبے قدوالے! جلدی نہ کرو۔“میں انتظار کرنے لگا۔ جب آپ وضو سے فارغ ہوئے تو فرمایا:”مجھے تم سے ایک مشورہ چاہئے، میری مدد کرو۔“میں نے عرض کی:جی فرمائیے۔تو فرمانے لگے:”میں نے اپنا تمام مال وجائداد صدقہ کردیا، اب میرے پاس یہی ایک گھر باقی ہے، میں اسے بھی بیچنا چاہتا ہوں، تم کیا کہتے ہو؟“میں نے عرض کی:”بخدا! آپ نہیں جانتے کہ آپ کی زندگی مزید کتنی ہے، مجھے خوف ہے کہ آپ لوگوں کے محتاج ہوجائیں گے، اس مکان کی آمدنی ہی آپ کے لئے کافی ہے اور اس کا ایک حصہ آپ کے رہنے کے لئے کافی ہے جو آپ کو لوگوں کے دَر سے بےنیاز کردے گا۔“انہوں نے کہا:”یہی تمہاری رائے ہے؟“میں نے کہا:”جی ہاں۔“توآپ نے کہا:وَاللہ!تم پرایک مثال صادق آرہی ہے۔میں نے عرض کی:کون سی؟فرمایا:”لَا يُخْطِئُكَ مِنْ طَوِيلٍ حُمْقٌ اَوْ قُزْحَةٌ فِي رِجْلِهیعنی لمباآدمی حماقت سے  بچ نہیں  سکتایااس کےپاؤں میں چھالاہے۔“پھرکہا: کیا تم مجھے محتاجی سے خوفزدہ کررہے ہو؟
	حضرتِ سیِّدُنا ابن جابر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَافِر فرماتے ہیں:”بالآخر حضرتِ سیِّدُنا ابوعبدربّ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے وہ مکان بھی اچھی قیمت میں بیچ دیا اور قیمت صدقہ کردی۔ جب آپ کا انتقال ہوا تو اس مال میں سے کفن خریدنے جتنی رقم ہی باقی تھی۔“
	مزید فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ان کے پاس ایک شخص آیا جسے انہوں نے ہزار دینار دیئے تھے۔ آپ نے فرمایا:”تم وہی ہو؟“اس نے کہا:”جی ہاں، اللہ عَزَّ  وَجَلَّ آپ کا بھلا کرے!کیا معاملہ ہے۔“فرمایا:”مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم چار ہزار کے مالک ہوگئے ہو یا فرمایا:40ہزار کے۔“اس نے کہا:”بےوقوف ہے وہ شخص جس کے پاس عقل اور مال نہ ہو۔“

مسئلہ:لڑکیوں کےکان چھیدناجائزہے۔بعض لوگ لڑکوں کےکان بھی چھیدواتےہیں اوراس کےکان میں بالی پہناتےہیں،یہ ناجائزہے۔(ماخوذازبہارشریعت،حصہ۱۶، ۳/ ۵۹۶)