Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
21 - 531
(6146)…حضرتِ سیِّدُنا حسن بن عُمَر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا طلحہ بن مُصرِّف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:اگر میں باوضو نہ ہوتا تو ضرور تمہیں رافضیوں(1) کے عقائد بتاتا۔
مسلمانوں کی خیرخواہی:
(6147)…حضرتِ سیِّدُنا فضیل بن غزوان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا طلحہ بن مُصرِّف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کسی نے کہا:”اگر آپ گندم فروخت کردیں تو کافی نفع ہوگا۔“آپ نے فرمایا:”مجھے  پسند نہیں کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے نزدیک میرادل مسلمانوں پر مہنگائی کی آرزو کرنے والا ٹھہرے۔“
(6148)…حضرتِ سیِّدُناعبدالرحمٰن عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کابیان ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا طلحہ بن مصرف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:دعا کے لئے اچھے الفاظ یہ ہیں کہ بندہ کہے:”اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ! میری خاموشی کو غور وفکر کرنے، نگاہوں کو عبرت حاصل کرنے اور زبان کو ذکر کرنے والا بنا۔“
کبھی ہنستے نہ دیکھا:
(6149)…حضرتِ سیِّدُنا فضیل بن عیاضرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرتِ سیِّدُنا طلحہ بن مُصرِّف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ ایک دن ہنسے پھر خود کو مخاطب کرکے پوچھا:”ہنسے کیوں ہو؟ ہنسنا تو اسے چاہئے جو قیامت کی ہولناکیوں سے چھٹکارا پا چکا اور پُل صراط سے گزرچکا۔“پھر انہوں نے قسم کھائی کہ میں اس  وقت تک  نہیں ہنسوں گا جب تک یہ نہ جان لوں کہ قیامت قائم ہوگئی۔ اس کے بعد وصال فرمانے تک کبھی آپ کو ہنستا ہوا نہ دیکھا گیا۔
ظا لم کے سامنے حق گوئی:
(6150)…حضرتِ سیِّدُنا عَلاء بن کَرِیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز بیان کرتے ہیں:خلیفہ سلیمان بن عبدالملک بیٹھا ہوا تھا کہ اس کے پاس سے ایک شخص گزرا جو قیمتی لباس زیب ِتن کئے ہوئے شاہانہ انداز سے چل رہا تھا۔ سلیمان 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…رافضیوں کےعقائدکےمتعلق معلومات کےلئےدعوتِ اسلامیکےاشاعتی ادارےمکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ:بہارشریعت،  جلد1، حصہ اول، صفحہ205تا213 کا مطالعہ کیجئے۔