Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
209 - 531
کرلیا ہے۔ آپ سجدے میں گرگئے اور سورج غروب ہونے تک سجدے میں رہے۔
اجنبی کی نصیحت آموز گفتگو:
(6771)…حضرتِ سیِّدُنا ولید بن مسلم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرتِ سیِّدُنا ابن جابر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَافِر کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا ابوعبدِربّ عُبَیدہ بن مہاجر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَافِر  دِمَشق کے سب سے مالدار شخص تھے۔ تجارت کے سلسلے میں آذربائیجان کی طرف نکلے۔راستے میں ایک چراگاہ اور نہر کے پاس رات گزاری۔ فرماتے ہیں:میں نے چراگاہ کے ایک کونے سے بکثرت حمد کی آواز سنی۔ وہاں گیا تو دیکھا کہ ایک شخص گڑھے کے اندر چٹائی میں لپٹا پڑا ہے۔ میں نے سلام کرکے پوچھا:”اےبندۂ خدا! تم کون ہو؟“اس نے کہا:”میں مسلمان ہوں۔“میں نے پوچھا:”تمہاری ایسی حالت کیوں ہے؟“اس نے کہا:”اللہ عَزَّ    وَجَلَّ کی نعمت ملنے پر شکر ادا کر رہا ہوں۔“میں نے پوچھا:”یہ کیسا شکر ہے تم تو چٹائی میں لپٹے ہو؟“اس نے کہا:”میں خدا تعالیٰ کا شکر کیوں نہ کروں؟اس نے مجھےمسلمان گھرانے میں پیدا فرماکر اچھی صورت سے نوازا، میرے تمام اعضاء تندرست بنائے، جن چیزوں کا دوسروں پر ظاہر کرنا مجھے ناگوار گزرتا اُنہیں پردے میں رکھا اور اس سے بڑی نعمت کیا ہے کہ میں اس حال میں(یعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی حمد کرتے ہوئے) رات بسر کررہا ہوں؟“میں نے کہا:”اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تم پر رحم فرمائے! میں چاہتا ہوں تم میرے ساتھ میری رہائش تک چلو، میں یہیں نہر کے قریب ٹھہرا ہوں۔“اس نے کہا:”کیوں؟“میں نے کہا:”تاکہ تمہیں کچھ کھانا اور پہننے کے لئے کپڑے دےدوں۔“اس نے کہا:”مجھے کسی چیز کی حاجت نہیں۔“
	حضرتِ سیِّدُنا وَلید بن مسلمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں:غالباً اس نے یہ کہا کہ میرے لئے گھاس کھانا ابوعبدِربّ کی پیشکش سے بہتر ہے۔
	حضرتِ سیِّدُنا ابوعبدربّرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں:میں وہاں سے لوٹ گیا۔ اس وقت میں خود کو بہت کمترمحسوس کررہا تھا اور مجھے اپنےآپ سے نفرت ہورہی تھی کیونکہ دمشق میں کوئی مجھ سے زیادہ مال دار 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… ہوا کہ کافر ومشرک ماں باپ کی بھی خدمت اولاد پر لازم ہے۔ فقہاء فرماتے ہیں کہ مشرک باپ کو بت خانہ لے نہ جائے مگر جب وہاں پہونچ چکا ہو تو وہاں سے گھر لے آئے کہ لےجانے میں بت پرستی پر مدد ہے اور لےآنے میں خدمت ہے۔