Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
208 - 531
حضرتِ سیِّدُنا عُبَیْدہ بن مہاجر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
	حضرتِ سیِّدُناابوعَبْدِرَبّ عُبَیْدہ بن مُہاجِر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تابعی بزرگ ہیں۔ آپ گوشہ نشین، دنیاوی مسائل سے دور رہنے والے اور نیکیوں میں سبقت کرنے والے تھے۔
مال سے بےرغبتی:
(6768)…حضرتِ سیِّدُنا سعید بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا ابوعبدرب عبیدہ بن مہاجر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ایک مرتبہ دس ہزار یا دولاکھ دینار صدقہ کئے۔ آپ فرمایا کرتے تھے:”اگر نہر بَرَد سونا اُگلنے لگے تو میں اس کی طرف بڑھنے میں لوگوں پر سبقت نہیں کروں گا لیکن اگر کہا جائے کہ اس لکڑی میں موت ہے تو کوئی مجھ پر سبقت نہیں لےجاسکتا سوائے مجھ سے زیادہ قوت والے کے۔“
(6769)…حضرتِ سیِّدُنا سعید بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا ابوعبدرب عبیدہ بن مہاجر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ایک مرتبہ فرمایا:اگر کہا جائے کہ اس لکڑی کو چھونے والا مرجائے گا تو میں اسے چھونے کے لئے کھڑا ہوجاؤں گا۔
ماں کا قبول اسلام:
(6770)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن یوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا ابوعبدرب عُبیدہ بن مہاجر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی عادت تھی کہ غلام باندی خرید کر آزاد کردیتے۔ ایک بار انہوں نے ایک رومی بوڑھی عورت کو خرید کر  آزاد کردیا۔ بوڑھی عورت نے کہا:”مجھے نہیں معلوم میں کہاں جاؤں؟“آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اسے اپنے گھر بھیج دیا۔ جب آپ عشا کے بعد مسجد سے گھر تشریف لائے تو اس بوڑھی عورت کو بلایا۔ اس نے کھانا کھایا۔ پھر آپ نے اسی کی زبان میں اس سے گفتگو کی تو معلوم ہوا کہ وہ آپ کی ماں ہیں۔ آپ نے ان سے اسلام کے متعلق پوچھا تو انہوں نے انکار کردیا۔ آپ ان کے ساتھ مسلسل بھلائی سے پیش آتے رہے(1)۔ جمعہ کے دن عصر کی نماز پڑھ کر گھر تشریف لائے تو خبر ملی کہ آپ کی ماں نے اسلام قبول 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…کافر والدین کی بھی خدمت اولاد پر ضروری ہے ہاں ان کے دینی معاملات میں مدد نہ کی جائے۔ جیساکہ مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح،جلد6، صفحہ517 پر ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں:معلوم…☜