قبولیت دعا کا وظیفہ:
(6766)…حضرتِ سیِّدُنا عُبادہ بن صامت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ نبیِّ رحمت، شَفیعِ اُمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:جورات جاگ کربَسرکرےاوریہ کلمات پڑھے:”لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيْكَ لَهٗ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِيْ وَيُمِيْتُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاللهُ اَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِالله یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لئے سب خوبیاں، وہی زندہ کرتا اور مارتا ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ پاک ہے، وہی تعریف کے لائق ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ سب سے بڑا ہے اور گناہ سے بچنے کی قوت اور نیکی کی طاقت اسی کی عطا سے ہے۔“ پھر کہے کہ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! مجھے بخش دے تو اسے بخش دیا جائے گا یا ارشاد فرمایا کہ پھر دعا مانگے تو اس کی دعا قبول ہوگی۔ اگر وضو کرے اور نماز پڑھے تو اس کی نماز قبول ہوگی۔(1)
(6767)…حضرتِ سیِّدُنا عبادہ بن صامت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حبیب، حبیب لبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”جو گواہی دے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، محمد(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندے اور رسول ہیں، حضرتِ عیسٰی بن مریم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندے، رسول، اس کا ایک کلمہ جو مریم کی طرف بھیجے گئے اور اس کی طرف سے روح ہیں(2)تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس کے عمل کے مطابق اُسے جنت میں داخل فرمائے گا۔“(3)
٭…٭…٭…٭…٭…٭
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…بخاری،کتاب التھجد،باب فضل من تعار من الليل فصلى،۱/ ۳۹۱،حدیث:۱۱۵۴
2…عیسائی جنابِ مسیح(عَلَیْہِ السَّلَام) کو خدا کا بیٹا اور بی بی مریم(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا) کو رب کی بیوی کہتے تھے۔ یہودی جنابِ مسیح(عَلَیْہِ السَّلَام) کی نبوت کے بھی انکاری تھے اور پاک بتول مریم(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا) کو تہمت لگاتے تھے۔ اس ایک کلمہ میں دونوں کی نفیس تردید ہوگئی۔ زمانہ موجودہ کے قادیانی آپ کو یوسف نجار کا بیٹا کہتے ہیں اور حضرتِ مریم(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا) کا نکاح ان سے ثابت کرتے ہیں۔ اس میں ان کی بھی اعلیٰ تردید ہے کہ اگر جنابِ مسیح(عَلَیْہِ السَّلَام) باپ کے بیٹے ہوتے تو اسی طرف آپ کی نسبت ہوتی قرآن نے بھی انہیں عیسٰی بن مریم فرمایا حالانکہ فرماتا ہے:اُدْعُوۡہُمْ لِاٰبَآئِہِمْ (پ۲۱، الاحزاب:۵)۔(مراٰۃ المناجیح، ۱/ ۴۹)
3…مسندبزار،مسند عبادة بن الصامت،۷/ ۱۳۰،حدیث:۲۶۸۲