Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
206 - 531
ہوگی۔ پھر سخت سیاہ فتنہ ہوگا۔ یہ اُمت میں سے ہرایک پر چھا جائے گا۔ پھر جب کہا جائے گا کہ فتنہ ختم ہوگیا تو وہ اور پھیلے گا۔ اس وقت انسان صبح ایمان کی حالت میں کرے گا اور شام کو کافر ہوگا حتّٰی کہ لوگ دو خیموں کی طرف لوٹ جائیں گے ایک خیمہ ایمان کا ہوگا جس میں نفاق نہیں اور دوسرا خیمہ نفاق کا ہوگا جس میں ایمان نہیں۔ جب یہ سب ہوجائے تو اس دن یا اس کے اگلے دن دجّال کے خروج کا انتظار کرو۔(1)
(6763)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ نبیوں کے سردار، دوعالَم کے مالک ومختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”میری اُمت کے بَدتَرین لوگ جہنم میں ایسے گریں گے جیسے سالن میں مکھی گرتی ہے۔“(2)
(6764)…حضرتِ سیِّدُنا عُمیر بن ہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی بیان کرتے ہیں:حضرتِ سیِّدُنا امیرمعاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے منبر پر کھڑے ہوکر فرمایا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”میری اُمت میں ایک جماعت ضرور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے حکم پر قائم رہے گی مخالفین اور رُسوا کرنے والے انہیں نقصان نہ دےپائیں گے حتّٰی کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا حکم آجائے گا۔ یہ جماعت لوگوں پر غالب ہوگی۔“(3)
جس نیت سے جائے گا وہی پائے گا:
(6765)…حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضورنبی اکرم،نُوْرِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”جو شخص مسجد میں جس نیت سے جائے گا وہی پائےگا۔“(4)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
……پیارا ہوں کیونکہ ان کی اولاد سے ہوں۔ یہ واقعہ قریب قیامت ہوگا ابھی واقع نہیں ہوا، خوارج اس حدیث کو حضرت علی رَضِیَ اللہُ عَنْہ پر چسپاں کرتے ہیں کہ حضرت علی(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) کی خلافت میں یہ فتنہ واقع ہوچکا مگر یہ اُن کی اہل بیت دشمنی ہے، ان سرکار کو اِس سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘مذکورہ حدیث کے آخر میں دجّال کے خروج کے انتظار کا ذکر ہے۔ اس کے تحت صفحہ217 پر فرماتے ہیں:یعنی اس فتنہ سے متصل خروجِ دجال ہوگا اس لیے معلوم ہوا کہ یہ فتنہ ابھی واقع نہیں ہوا قیامت کے قریب ہوگا۔ وہ کون سیّد ہوگا جو اس فتنہ کا موجِد ہوگا یہ رب جانے اور یہ واقعہ کب ہوگا اس کی تاریخ  کا بھی پتہ نہیں۔
…ابو داود،کتاب الفتن والملاحم،باب ذکر الفتن ودلائلھا،۴/ ۱۲۸،حدیث:۴۲۴۲
2…مسند شامیین،معاوية عن  عمير بن هانی العنسی،۳/ ۱۵۲،حدیث:۱۹۷۶
3…بخاری،کتاب المناقب،باب:۲۸،۲/ ۵۱۲،حدیث:۳۶۴۰، ۳۶۴۱
4…ابو داود،کتاب الصلاة،باب فى فضل القعود فى المسجد،۱/ ۲۰۱،حدیث:۴۷۲