Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
205 - 531
حضرتِ سیِّدُنا عُمَیْر بن ہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی
	حضرتِ سیِّدُنا ابوالولید عمیر بن ہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی تابعی بزرگ ہیں۔آپ ظاہری اور پوشیدہ حالت میں خواہشات اور سستی کو ترک کرکے نیکیوں پر کمربستہ رہا کرتے تھے۔
(6760)…حضرتِ سیِّدُنا سعید بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا عمیر بن ہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے کہا:”آپ کی زبان مسلسل اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ذکر میں مشغول رہتی ہے، دن رات میں کتنی بار ی تسبیح پڑھ لیتے ہیں؟“ فرمایا:”ایک ہزار تسبیح مگر انگلیاں گنتی بھول جاتی ہیں۔“
فتنوں سے محفوظ بندہ:
(6761)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عبدالرحمٰن عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنا عمیر بن ہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے فتنوں کا ذکر کیا پھر فرمایا:”خوشخبری ہے اس مالدار کے لئے جو کسی پہاڑ میں گوشہ نشینی اختیار کرے، نماز قائم کرتا ہو، زکوٰۃ ادا کرتا ہو اور مہمان نوازی کرتا ہو۔ لوگ اسے نہیں جانتے مگر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کی پرہیزگاری کے سبب اسے جانتا ہے۔ یہ بندہ فتنوں سے محفوظ ہے۔“
سیِّدُنا عمیر بن ہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے مروی احادیث
سرکار کے دوست:
(6762)…حضرتِ سیِّدُنا فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ ہم سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر تھے۔ آپ نے بہت سے فتنوں کا ذکر کرتے ہوئے ”اَحْلَاس“نامی ایک فتنہ کا بھی ذکر فرمایا۔ ایک شخص عرض گزار ہوا:”فتنہ احلاس کیا چیز ہے؟“ارشاد فرمایا:وہ لڑائی کا فتنہ ہے(جو ایک عرصہ رہے گا)۔ پھر مالداری کا فتنہ ہے جس کی ابتدا میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کے قدموں کے نیچے سے ہوگی(یعنی وہ نسب کی بدولت لوگوں پر حکومت کرے گا)۔ وہ گمان کرے گا کہ وہ مجھ سے ہے مگر وہ مجھ سے نہیں کیونکہ میرے دوست پرہیزگار ہی ہیں۔(1)پھر لوگ ایک ایسے انسان کو چُن لیں گے جسے قوت حاصل نہ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح،جلد7، صفحہ216 پر اس کے تحت فرماتے ہیں:’’یعنی وہ شخص اپنی ان حرکتوں کے باوجود اپنے کو ”سیِّد“ ہی کہے گا اور سمجھے گا کہ میں حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کا…☜