Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
203 - 531
کی سیرت کا مشاہدہ کرنا چاہے وہ عَمرو بن اسود کو دیکھ لے۔
(6755)…حضرتِ سیِّدُنا شُرحبیل عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَکِیْل بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عَمرو بن اسود عنسی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی بڑی برائی کے خوف سے اکثر پیٹ بھر کر نہیں کھاتے تھے اور جب گھر سے مسجد کی جانب روانہ ہوتے تو تکبر وخودپسندی سے بچنے کے لئے (عاجزی کرتے ہوئے) اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھ لیتے۔
سیِّدُنا عَمرو بن اَسود رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سے مروی احادیث
	آپ حضرتِ سیِّدُنا مُعاذ بن جبل، حضرتِ سیِّدُنا عُبادہ بن صامت، حضرتِ سیِّدُنا عَرباض بن ساریہ، حضرتِ سیِّدَتُنا اُم حرام اور حضرتِ سیِّدُنا جُنادہ بن ابواُمیّہ رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے روایت کرتے ہیں۔
مخلوق میں سب سے زیادہ ناپسند:
(6756)…حضرتِ سیِّدُنا مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرکارِ مکہ مکرمہ، سردارِ مدینہ منوَّرہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”مخلوق میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو سب سے زیادہ ناپسند وہ شخص ہے جو ایمان لاکر پھر کافر ہوجائے۔“(1)
جنتی گروہ:
(6757)…حضرتِ سیِّدُنا عَمرو بن اَسود عَنسی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی بیان کرتے ہیں کہ ہم حمص کے ساحل پر حضرتِ سیِّدُنا عُبادہ بن صامت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے گھر ان کی بارگاہ میں حاضر ہوئے وہاں آپ کی زوجہ حضرتِ سیِّدَتُنا اُم حرام بنت ملحان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بھی تھیں۔ انہوں نے ہمیں حدیث مبارکہ بیان کی کہ حضورِ اکرم، نورِ مجسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”سمندری راستے جہاد کرنے والا میری اُمت کا پہلا گروہ جنتی ہے۔“میں نے عرض کی:”یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیامیں بھی ان میں شامل ہوں گی؟“ارشاد فرمایا:”تم بھی ان میں شامل ہو۔“پھر ارشاد فرمایا:”قیصرکے شہر(روم) پر حملہ کرنے والا پہلا گروہ مغفرت یافتہ ہے۔(2)“میں نے 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…معجم کبیر،۲۰/ ۱۱۴،حدیث:۲۲۶
2…اس سے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے فتاوٰی فیض الرسول، جلد2 ، صفحہ710تا712 کا مطالعہ کیجئے۔