حضرتِ سیِّدُنا ابوالحسن مَریح بن مَسروق رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ
حضرتِ سیِّدُنا ابوالحسن مریح بن مسروق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تابعی بزرگ ہیں۔ آپ موت کو کثرت سے یاد کرنے کے سبب بےچین وبےقرار رہا کرتے تھے۔
(6750)…حضرتِ سیِّدُنا صَفوان بن عَمرو رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا مریح بن مسروق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمایا کرتے تھے:”امید سے پہلے خوف ہونا چاہئے کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جنت ودوزخ دونوں کو پیدا فرمایا ہے پس تم ہرگز جنت میں داخل نہیں ہوگے جب تک دوزخ سے نہ گزرلو۔“
دنیا کی حیثیت:
(6751)…حضرتِ سیِّدُنا عیسٰی بن یزید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْد بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا مریح بن مسروق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو ایک دن گائے کے گوبَر سے اپنے گھر کے سوراخوں کی مرمت کرتے دیکھا گیا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
……(۳)چار زانو ىعنى پالتى (چوکڑى) مار کر بىٹھے خواہ زمىن ىا تخت ىا چار پائى وغىرہ پر ہو(۴)دوزانو سىد ھا بىٹھا ہو(۵) گھوڑےىا خچر وغىرہ پر زىن رکھ کر سوار ہو(۶) ننگى پىٹھ پر سوار ہو مگر جانورچڑھائى پر چڑھ رہا ہو ىا راستہ ہموار ہو(۷) تکىہ سے ٹىک لگا کر اس طرح بىٹھا ہو کہ سرىن جمے ہوئے ہوں اگرچہ تکىہ ہٹانے سے ىہ گر پڑے(۸) کھڑا ہو(۹)رکوع کى حالت مىں ہو(۱۰) سنت کےمطابق جس طرح مردسجدہ کرتاہےاس طرح سجدہ کرےکہ پىٹ رانوں اوربازوپہلوؤں سےجداہوں۔مذکورہ صورتىں نماز مىں واقع ہوں ىا علاوہ نماز،وضو نہىں ٹوٹے گا اور نماز بھى فاسد نہ ہوگى اگرچہ قصداً سوئے،البتہ جو رکن بالکل سوتے ہوئے ادا کىا اس کا اِعادہ (ىعنى دوبارہ ادا کرنا) ضرورى ہے اور جاگتے ہوئے شروع کىا پھر نىند آگئى تو جو حصہ جاگتے ادا کىا وہ ادا ہوگىا بقىہ ادا کرنا ہوگا۔سونے کے وہ دس انداز جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے:۔(۱)اُکڑوں ىعنى پاؤں کے تلووں کے بل اس طرح بىٹھا ہو کہ دونوں گھٹنے کھڑے رہىں(۲) چت ىعنى پىٹھ کے بل لىٹا ہو(۳) پٹ ىعنى پىٹ کےبل لىٹا ہو(۴) دائىں ىا بائىں کروٹ لىٹا ہو(۵) اىک کہنى پر ٹىک لگا کر سوجائے(۶) بىٹھ کر اس طرح سوىا کہ اىک کروٹ جھکا ہو جس کى وجہ سے اىک ىا دونوں سرىن اٹھے ہوئے ہوں(۷) ننگى پىٹھ پر سوار ہو اور جانور پستى کى جانب اتر رہا ہو(۸) پىٹ رانوں پر رکھ کر دوزانو اس طرح بىٹھےسوىا کہ دونوں سرىن جمے نہ رہىں(۹)چار زانو ىعنى چوکڑى مار کر اس طرح بىٹھے کہ سر رانوں ىا پنڈلىوں پر رکھا ہو (۱۰) جس طرح عورت سجدہ کرتى ہے اس طرح سجدہ کے انداز پر سوىا کہ پىٹ رانوں اور بازو پہلوؤں سے ملے ہوئے ہوں ىا کلائىاں بچھى ہوئى ہوں۔مذکورہ صورتىں نماز مىں واقع ہوں ىا نماز کے علاوہ وضو ٹوٹ جائے گا۔پھر اگر ان صورتوں مىں قصداً سوىا تو نماز فاسد ہوگئى اور بلا قصد سوىا تو وضو ٹوٹ جائے گامگر نماز باقى ہے۔بعدِوضو(مخصوص شرائط کے ساتھ)بقىہ نماز اسى جگہ سے پڑھ سکتا ہے، جہاں نىند آئى تھى۔شرائط نہ معلوم ہوں تونئےسرے سے پڑھ لے۔ (نمازکےاحکام،ص۳۴)