اہل خانہ کی تربیت:
(6144)…حضرتِ سیِّدُنا ابن ابوغُنِیَّہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے استاذ محترم کی دادی کا بیان ہے کہ ہماری خادمہ حضرتِ سیِّدُنا طلحہ بن مصرف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے گھر آگ لینے گئی اس وقت آپ نماز پڑھ رہے تھے،(خادمہ آگ لانے لگی تو) آپ کی زوجہ نے کہا:”اے فلانی! رک جا کہ میں ابومحمد(حضرتِ سیِّدُنا طلحہ بن مصرف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ) کے لئے اس پر گوشت کا ٹکڑا بُھون لوں تاکہ وہ اس سے روزہ افطار کرلیں۔“ حضرتِ سیِّدُنا طلحہ بن مصرف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے نماز مکمل کی تو اپنی زوجہ سے فرمایا:”یہ تم نے کیا کیا؟ میں اسے نہیں چکھوں گا جب تک تم اس کی مالکن کے پاس جاکر اس کی خادمہ کو اپنے پاس روکنے اور گوشت بھوننے کی اجازت نہ لےلو۔“
(6145)…حضرتِ سیِّدُنا عَلاء بن عبدالکریم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّحِیْم بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا طلحہ بن مصرف ایامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِینے فرمایا:اگر میں با وُضو نہ ہوتا تو مختار ثَقَفی کی کرسی(1) کے بارے میں خبر دیتا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مختار ثقفی نے ایک کرسی کو باعثِ برکت سمجھ کر اپنے پاس رکھا ہوا تھا۔ اس کی حقیقت کے متعلق حضرتِ سیِّدُنا ابن جریر طبریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ طفیل بن جعدہ بن ہبیرہ کہتا ہے: جب میں مفلس وفقیر تھا تو اپنے پڑوسی کے دروازے کے پاس سے گزرتے ہوئے دیکھا کہ وہ ایک گردآلود کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔ میرے دل میں خیال آیا کہ اس بارے میں مختار ثقفی کو بتانا چاہئے۔ میں گھر لوٹ گیا اور پڑوسی سے کرسی مانگی تو اس نے مجھے دےدی۔ پھر میں مختار کے پاس آیا اور اسے کہا:”میں نے تم سے ایک بات چھپا رکھی ہے جو اب بتانا چاہتا ہوں۔“مختار نے کہا:”بتاؤ کیا بات ہے۔“میں نے کہا:”ایک کرسی ہے جس پر (میرے والد)جعدہ بن ہبیرہ بیٹھا کرتے تھے اور وہ یقین رکھتے تھے کہ اس میں علمی اثرات ہیں۔“مختار نے یہ سن کر خوشی سے کہا:”سُبْحانَ اللہ!اسے میرے پاس لاؤ۔“ میں کرسی مختار کے پاس لےآیا۔ اسے دھویا گیا، تَروتازہ عود سے معطّر کیا گیا اور زیتون کی پالش کی گئی اور مجھے بارہ ہزار سکے انعام میں دیئے۔ پھر لوگوں کو جمع کیا گیا اور مختار نے اعلان کیا کہ ہراُمت میں کوئی نشانی مدد کے لئے بھیجی جاتی ہے جیساکہ بنی اسرائیل میں تابوت بھیجا گیا اور وہ اس سے مدد حاصل کیا کرتے تھے، یہاں بھی ایسا ہی معاملہ پیش آیا ہے۔ پھر اس کے حکم پر کرسی سے کپڑا اُٹھا دیا گیا۔ مختار کے پیروکار کھڑے ہوئے اور ہاتھوں کو بلند کرکے تین بار تکبیر کہی۔(البدایة والنھایة، ۶/ ۳۴)مزید تفصیل کے لئے اسی مقام کا مطالعہ کیجئے۔
یہ اُن بدبختوں میں سے ایک تھا جنہوں نے نبوت کا جھوٹا دعوٰی کیا۔ شیخ طریقت، امیراہلسنّت، بانِیِ دعوت اسلامیحضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُھُمُ الْعَالِیَہاپنے رسالے امام حسین کی کرامات، صفحہ53 پر فرماتے ہیں:مختار ثقفی جس نے قاتلین حسین کو چن چن کر مارا اور مُحِبِّیْن حسین کے دل جیتے مگر اُس پر شَقاوَت اَزلی غالب ہوئی اور اس نے نبوت کا دعوٰی کردیا اور کہنے لگامیرے پاس وحی آتی ہے۔